اپنی پارٹی نچلی سطح سے تنظیم کو دوبارہ مضبوط بنا رہی ہے

ریاستی درجے کی بحالی، زمین اور روزگار کا تحفظ بنیادی ترجیح ہے:الطاف بخاری

سرینگر// پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی نچلی سطح سے اپنی تنظیم کو دوبارہ مضبوط بنانے کے عمل میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی، زمین اور روزگار کا تحفظ پارٹی کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق پیر پنجال خطے کے پانچ روزہ دورے کے دوران پونچھ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی نے جان بوجھ کر چند ماہ تک سیاسی سرگرمیوں سے گریز کیا تاکہ نئی حکومت کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کشمیر میں تنظیم کو مضبوط کیا گیا جبکہ اب جموں خطے میں تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں سرنکوٹ، راجوری، مینڈھر اور پونچھ کا دورہ کیا گیا۔الطاف بخاری نے دعویٰ کیا کہ پونچھ میں بنیادی سہولیات کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سڑکیں جو پہلے قابل آمدورفت تھیں، اب خستہ حال ہو چکی ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی قلت اس حد تک ہے کہ پائپ بھی زنگ آلود ہو گئے ہیں۔تعلیمی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض اسکولوں میں چند طلبہ پر کئی اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ کئی ایسے اسکول بھی ہیں جہاں بڑی تعداد میں طلبہ ہونے کے باوجود صرف ایک استاد موجود ہے، جس سے تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اپنی پارٹی کا بنیادی مطالبہ ہے اور پارٹی کے قیام کے روز سے یہی اس کا مرکزی ایجنڈا رہا ہے۔ ان کے مطابق زمین اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت بھی ضروری ہے، جبکہ ڈومیسائل قانون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔یو این ایس کے مطابق الطاف بخاری نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی علیحدہ جموں و کشمیر کی حامی نہیں بلکہ بھارت کا حصہ رہتے ہوئے اپنی ثقافت، زمین اور شناخت کے تحفظ کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے صنعتی پیکیج پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے اعلانات کے باوجود مقامی نوجوانوں کو خاطر خواہ روزگار نہیں ملا، جبکہ متعدد صنعتوں میں باہر سے مزدور اور تکنیکی عملہ لایا جا رہا ہے۔ کان کنی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے اور قدرتی وسائل سے زیادہ فائدہ بیرونی ٹھیکیدار حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی افراد کو ترجیح دی جائے اور رائلٹی وصول کرکے انہیں قانونی طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق فیصلے حکومت ہند کا اختیار ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان امن سے سب سے زیادہ فائدہ جموں و کشمیر کو ہوگا۔آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے الطاف بخاری نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو مکمل معاوضہ، بنکرز اور دیگر وعدہ شدہ سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے آؤٹ سورسنگ کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عارضی تقرریوں کے بجائے مستقل ملازمتیں فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو فوری طور پر مستقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں مزید تاخیر مناسب نہیں اور حکومت کو جلد احکامات جاری کرنے چاہئیں۔