20 سے زائد غیر مجاز ڈھانچے مسمار، خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا انتباہ
سرینگر// سرینگر میونسپل کارپوریشن نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں 20 سے زائد غیر مجاز ڈھانچوں کو مسمار کر دیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ انہدامی مہم چیف انفورسمنٹ آفیسر سہیل نبی چٹ ساز کی نگرانی میں چلائی جا رہی ہے۔ کارروائی کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ایسی عمارتوں اور تعمیرات کو نشانہ بنایا گیا جو مقررہ قوانین اور منظور شدہ نقشوں کے خلاف تعمیر کی گئی تھیں۔یو این ایس کے مطابق ایس ایم سی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ادارہ تعمیراتی ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پْرعزم ہے اور کسی بھی فرد یا ادارے کو غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن ڈھانچوں کو مسمار کیا گیا ہے، اگر وہاں دوبارہ غیر مجاز تعمیر شروع کی گئی تو متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیف انفورسمنٹ آفیسر سہیل نبی چٹ ساز نے بھی واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی آنے والے دنوں میں مزید تیز کی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی منصوبہ بند ترقی کو متاثر کرنے والی ہر غیر قانونی تعمیر قانون کے مطابق نمٹائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ وارڈ افسران، بلڈنگ انسپکٹروں اور سپروائزروں کے خلاف بھی فوری محکمانہ کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اہلکاروں کی غفلت یا ممکنہ ملی بھگت کے باعث کئی غیر قانونی تعمیرات وجود میں آئیں، اس لیے جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔سہیل نبی چٹ ساز نے تعمیراتی شعبے میں شفافیت اور احتساب کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے متعلقہ ونگ میں جامع سطح پر تبادلوں اور تنظیمِ نو کی بھی سفارش کی، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی بے ضابطگیوں کی روک تھام کی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق ایس ایم سی کے مطابق یہ کارروائی شہر بھر میں غیر قانونی شہری ترقی کو روکنے، منظور شدہ تعمیراتی ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور ان افراد و اہلکاروں کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے کی جا رہی ہے جن کی وجہ سے غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہر کے ماسٹر پلان کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ سرکاری خزانے کو بھی مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔کارپوریشن نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف یہ مہم متاثرہ علاقوں میں مسلسل جاری رہے گی اور جب تک تمام خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور منصوبہ بندی سے متعلق قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاتا، کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔










