سپیکرکا پُلوں کے تحفظ کواوّلین ترجیح دینے پر زور

حفاظتی کاموں کو تیز کرنے اور معیاری تکمیل کی ہدایت

سری نگر//سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے اپازیاری نالہ پر نبارڈ کے تحت جاری سیلابی تحفظاتی اقدامات اور ایس اے ایس سی آئی ۔دوم کے تحت سیلاب سے متاثرہ مقامات کی بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔دورانِ میٹنگ سپیکرکو بتایا گیا کہ اپازیاری نالہ پر کٹاؤ روکنے اور فوری سیلابی تحفظ کے کاموں کے لئے 7.31 کروڑ روپے سے زائد لاگت کی منظوری دی گئی ہے جبکہ سیلاب سے متاثرہ مقامات کی بحالی کے لئے زائد اَز 1.54 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے۔اَفسران نے سپیکرموصوف کوجانکاری دی کہ ان منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کی ایک جامع سلسلہ وار سکیم شامل ہے جس میں کریٹ ورک، چیک کریٹس، آر سی سی دیواریں اور کٹ آف دیواریں شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد پُلوں کی بنیادوں کو محفوظ بنانا اور اچانک آنے والے سیلاب اور پانی کے شدید بہاؤ سے ہونے والے کٹاؤ کو روکنا ہے۔سپیکرجموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی نے عوامی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پُلوں کو کٹاؤ اور سیلابی نقصان سے محفوظ رکھنا بالخصوص حساس علاقوں میں اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔اُنہوں نے ایگزیکٹیو اِنجینئروں کو ہدایت دی کہ وہ نالے کا باقاعدگی سے موقعہ پر معائینہ کریں، تمام حساس مقامات کی نشاندہی کریں اور بروقت مناسب احتیاطی و حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔عبدالرحیم راتھرنے مزید زور دیا کہ تمام کاموں کو اعلیٰ معیار کے ساتھ اَنجام دیا جائے اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ مطلوبہ ثمرات بلاتاخیر لوگوں تک پہنچ سکیں۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو پروجیکٹوں کی پیش رفت پر کڑی نظر رکھنے اورتکمیل کے دوران سخت نگرانی رکھنے کی بھی ہدایت دی۔اُنہوں نے ان منصوبوں کی عوامی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پُلوں کے تحفظ اور سیلاب سے بچائو کے اقدامات سے بڈی پورہ، نوپورہ، چودھری گنڈ،ہفرو، لولی پورہ، واتکلو، چک بناگنڈ، سوگام اور دیگر ملحقہ بستیاں سمیت تقریباً 15 دیہاتوں میں رہنے والے تقریباً 40,000 لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔سپیکر موصوف نے کہا کہ ان منصوبوں سے سڑکوں کے نیٹ ورک کی حفاظت اور مضبوطی میں نمایاں اضافہ ہوگا، آمد و رفت کا تسلسل برقرار رہے گا اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو بار بار سیلاب سے ہونے والے نقصان سے طویل مدتی تحفظ فراہم ہوگا۔