بی جے پی کا قانونی نوٹس میرے لیے 'محبت نامہ'، یہ میرے سیاسی قد کا اعتراف ہے

بی جے پی کا قانونی نوٹس میرے لیے ‘محبت نامہ’، یہ میرے سیاسی قد کا اعتراف ہے

عدالتوں کے پیچھے چھپ کر سیاسی لڑائی لڑنا بی جے پی کا طریقہ ہے//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے موصول ہونے والے قانونی نوٹس کو طنزیہ انداز میں اپنا ’’محبت نامہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی انہیں جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک ایسی طاقت تصور کرتی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے مرکزی دفتر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں ایک وکیل کے ذریعے قانونی نوٹس کی الیکٹرانک نقل موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں کیونکہ شاید جموں و کشمیر میں میں واحد سیاست دان ہوں جسے بی جے پی کی جانب سے اس نوعیت کا ’محبت نامہ‘ ملا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجھے ایک ایسی سیاسی قوت سمجھتے ہیں جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے ایک سیاسی بیان دیا تھا، اس لیے انہیں توقع تھی کہ اس کا جواب بھی سیاسی انداز میں دیا جائے گا، لیکن بی جے پی نے عدالتوں کا سہارا لینے کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بی جے پی کے سیاسی طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سیاسی لڑائیوں کو عدالتوں کے ذریعے لڑنے کی کوشش کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں چاہتا تو یہی بات جموں و کشمیر اسمبلی کے اندر کہہ سکتا تھا، جہاں آئینی استحقاق کے تحت میرے بیان کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے اسمبلی سے باہر اپنی بات رکھی کیونکہ میرا مقصد ایک سیاسی معاملے کو عوام کے سامنے رکھنا تھا۔‘‘عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جموں و کشمیر بی جے پی کے متعدد رہنما، خصوصاً ایک مخصوص رہنما، مسلسل نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کے خلاف بے بنیاد، گمراہ کن اور ہتک آمیز الزامات عائد کرتے رہے ہیں، لیکن ان کی جماعت نے ہمیشہ ان کا سیاسی انداز میں جواب دیا اور قانونی کارروائی سے گریز کیا۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ اب نیشنل کانفرنس بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرے گی اور ایسے بی جے پی رہنماؤں، جنہوں نے این سی اور اس کی قیادت کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دیے ہیں، کو قانونی نوٹس بھیجنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اب ہم بھی قانونی راستہ اختیار کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہ سلسلہ کہاں تک جاتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ جموں و کشمیر بی جے پی نے پیر کے روز عمر عبداللہ کو ایک قانونی نوٹس جاری کیا ہے، جس میں ان کے اس بیان پر شدید اعتراض کیا گیا ہے کہ بی جے پی نے نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کو نقد رقم اور وزارتوں کی پیشکش کر کے ان کی حکومت گرانے کی کوشش کی۔ بی جے پی نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ یہ الزامات جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں اور یہ سول و فوجداری قوانین کے تحت ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔قانونی نوٹس میں وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر اندر تحریری طور پر اپنے بیانات واپس لیتے ہوئے غیر مشروط عوامی معافی مانگیں۔ نوٹس میں انہیں مستقبل میں بی جے پی کے خلاف ایسے بیانات دینے سے بھی باز رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف 100 کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے سمیت مناسب قانونی کارروائی عمل میں لانے کا انتباہ دیا گیا ہے۔یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حالیہ دنوں الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نے نیشنل کانفرنس کے منتخب اراکین اسمبلی کو مالی ترغیبات اور وزارتوں کی پیشکش کر کے حکومت گرانے کی کوشش کی، جسے بی جے پی نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد اور سیاسی مفادات پر مبنی قرار دیا تھا۔