fir

بارہمولہ میں جعلی عدالتی فیصلے پر ایف آئی آر درج

غیر موجود مقدمے کی مصدقہ نقول جاری کرنے کا انکشاف

سرینگر// بارہمولہ میں ایک ایسے سیول مقدمے کے نام پر مبینہ طور پر جعلی عدالتی فیصلہ، ڈگری اور مصدقہ نقول جاری کیے جانے کے معاملے میں پولیس نے سب جج (جوڈیشل مجسٹریٹ) کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ایک ایسے مقدمے کی مصدقہ نقول طلب کیں جو عدالتی ریکارڈ کے مطابق کبھی درج ہی نہیں ہوا تھا۔یو این ایس کے مطابق سب جج (جوڈیشل مجسٹریٹ) بارہمولہ، مجید فاروق میر کی جانب سے دائر شکایت میں عدالت کے بعض ملازمین اور چند نجی افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور مجرمانہ بددیانتی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ شکایت کے مطابق 13 جون 2026 کو اینٹی کرپشن بیورو بارہمولہ کے ایک افسر نے عدالت سے “رابعہ رشید بنام عابدہ ملک” کے عنوان سے مبینہ سول مقدمے میں 22 جنوری 2021 کو سنائے گئے حتمی فیصلے، ڈگری اور سمجھوتے کی مصدقہ نقول طلب کیں۔جب ضلع ریکارڈ روم کو یہ نقول جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تو متعلقہ عملے نے بتایا کہ اس مقدمے کی اصل فائل دستیاب نہیں ہے۔ بعد ازاں اے سی بی حکام نے 28 جون 2025 کی تاریخ والی ایسی فوٹو کاپیاں پیش کیں جنہیں مصدقہ نقول ظاہر کیا گیا تھا اور جن پر مبینہ طور پر سب جج کے دستخط موجود تھے۔یو این ایس کے مطابق ابتدائی جانچ میں انچارج ریکارڈ کیپر نے معلوم کیا کہ اگرچہ مصدقہ نقل کے لیے درخواست اور اجرا رجسٹر میں اس کا اندراج موجود ہے، تاہم متعلقہ مقدمے کی اصل عدالتی فائل سرے سے موجود نہیں ہے۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج بارہمولہ کے سامنے پیش کیا گیا، جنہوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سے حقائق پر مبنی انکوائری کرانے کا حکم دیا۔ انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے بعد پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے سب جج بارہمولہ کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائیں اور اس کی اطلاع ان کے دفتر کو بھی دیں۔عدالتی مشاہدے میں کہا گیا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹ میں نامزد عدالتی عملے نے مبینہ فائدہ اٹھانے والی خاتون رابعہ اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ ملی بھگت کر کے عدالتی فیصلے اور ڈگری کی جعلی مصدقہ نقول تیار کیں۔ مزید یہ کہ سب جج کے دستخط دھوکہ دہی سے حاصل کیے گئے تاکہ جعلی عدالتی دستاویزات کو قانونی حیثیت کا تاثر دیا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے سب جج کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اینٹی کرپشن بیورو کو تحریری طور پر مطلع کریں کہ جس فیصلے اور ڈگری کی مصدقہ نقول طلب کی گئی ہیں، وہ اگرچہ بظاہر ان کے دستخط پر مشتمل ہیں، تاہم وہ جعلی اور من گھڑت ہیں، کیونکہ “رابعہ رشید بنام عابدہ ملک” کے عنوان سے ایسا کوئی سول مقدمہ کبھی بھی سب جج بارہمولہ کی عدالت میں دائر یا زیر سماعت نہیں رہا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی اور اگر جعلسازی یا دیگر جرائم ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔