چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر کیلئے جامع کینسر کیئر حکمت عملی کی تیاری کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر کیلئے جامع کینسر کیئر حکمت عملی کی تیاری کا جائزہ لیا

یوٹی بھر میں کینسر کی روکتھام ، تشخیص اور علاج کے نظام کو مضبوط بنانے کے لائحہ عمل کو عملانے کی ہدایت

سری نگر//چیف سیکرٹر ی اَتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لئے جامع کینسر کیئر حکمت عملی کی ابتدائی تیاری کا جائزہ لیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد پورے یونین ٹیریٹری میں کینسر کی روکتھام، تشخیص اور علاج کے لئے ایک مربوط، قابل رسائی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نظام قائم کرنا ہے۔میٹنگ میں ڈائریکٹرسکمز، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن، ڈائریکٹر ٹاٹا میموریل سینٹر (ٹی ایم سی) چندی گڑھ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپل، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر و جموں، مختلف میڈیکل کالجوں کے فیکلٹی ممبران اور محکمہ صحت و طبی تعلیم کے سینئر افسران نے شرکت کی۔محکمہ صحت و طبی تعلیم نے ملک کے سرکردہ آنکولوجی ماہرین اور قومی اِداروں کے ساتھ اِشتراک سے تیار کردہ حکمت عملی میں کینسر کی روکتھام، جلد پتہ لگانے، سکریننگ، تشخیصی سہولیات، علاج،فالج کی نگہداشت ، تحقیق، صلاحیت سازی اور ڈیجیٹل ہیلتھ مداخلتوں پر مشتمل ایک جامع فریم ورک تجویز کیا ہے۔چیف سیکرٹری نے تجویز کردہ لائحہ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کینسر تیزی سے ایک بڑا عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے مربوط، سائنسی شواہد پر مبنی اور مریض دوست حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ پوری یونین ٹیریٹری میں صحت کے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ تمام مجوزہ اَقدامات پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے جس کے لئے مؤثر ادارہ جاتی اِشتراک،باقاعدگی سے نگرانی اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ دی جائے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یوٹی کے تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں پریونٹیو آنکولوجی کا مضبوط نظام قائم کیا جائے تاکہ کینسر کی جلد تشخیص اور بروقت علاج ممکن ہو سکے۔ اُنہوں نے اَفرادی قوت کی صلاحیت اور مطلوبہ صحت بنیادی ڈھانچے کو بیک وقت مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ معیاری تشخیصی اور علاج کی سہولیات مریضوں کے قریب دستیاب ہوں اور انہیں دُور دراز مراکز کا رخ نہ کرنا پڑے۔
چیف سیکرٹری نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ مرحلہ وار صلاحیت سازی پروگرام کے تحت مطلوبہ ماہر اَفرادی قوت بشمول ریڈی ایشن سیفٹی آفیسر (آر ایس او) سے تصدیق شدہ عملے کی تربیت دی جائے جبکہ تمام میڈیکل کالجوں میں جدید طبی آلات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی اَپ گریڈ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان اَقدامات سے جموں و کشمیر میں کینسر کے علاج کی سہولیات کے معیار اور رَسائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ پوری حکمت عملی آئندہ برسوں کے دوران واضح مرحلہ وار منصوبہ بندی کے مطابق عملائی جائے تاکہ یونین ٹیریٹری کے تمام علاقوں میں آنکولوجی کی سہولیات یکساں طور پر فراہم کی جا سکیں۔ اُنہوں نے کینسر کیئر حکمت عملی کے تحت قائم تمام ماہر کمیٹیوں کو اپنے اپنے شعبوں کے لئے مقررہ مدت کے اندر تفصیلی عملی منصوبے تیار کرنے کی ہدایت بھی دی۔اَتل ڈولونے کہا کہ ان منصوبوں کا جائزہ ایپکس کمیٹی لے گی جس کی سربراہی ڈائریکٹر ٹاٹا میموریل سینٹر ممبئی ڈاکٹر سدیپ گپتا کر رہے ہیں تاکہ منصوبوں کی تکنیکی درستی،فزیبلٹی اور مؤثر عمل آوری کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوںنے ٹاٹا میموریل سینٹر کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اس سرکردہ کینسر ادارے کی تکنیکی رہنمائی، قومی سطح کی بہترین عملی مثالوں کو اَپنانے میں مدد دے گی اور جموں و کشمیر میں کینسر کیئر حکمت عملی کی مؤثر عمل آوری کو تیز کرے گی جس سے بالآخر جموں و کشمیر بھر میں مریضوں کے نتائج بہتر ہوں گے۔
میٹنگ کو مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن اکریتی ساگر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں پاپولیشن بیسڈ کینسر رجسٹری (پی بی سی آر) اور ہاسپٹل بیسڈکینسر رجسٹری (ایچ بی سی آر) کے قیام کے لئے سٹیئرنگ کمیٹی و سٹیٹ کینسر رجسٹری کوآرڈی نیشن یونٹ پہلے ہی تشکیل دیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کینسر کے مریضوں کے ڈیٹا کو منظم طریقے سے جمع کرنے، بیماریوں کی نگرانی کو مضبوط بنانے اور نیشنل کینسر رجسٹری پروگرام کے تحت شواہد پر مبنی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ایم ڈِی نے مزید بتایا کہ کینسر کو جموں و کشمیر میں قابل اطلاع بیماری قرار دینے کے بعد حکومت نے اِنڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ ۔ نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف نان کمیونی کیبل ڈیزیز ایپیڈیمیولوجی (آئی سی ایم آر ۔ این آئی اِی) بنگلورو کے ساتھ ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کرنے کا عمل شروع کیا ہے تاکہ یہاں کینسر کے جدید نظام کے قیام میں تکنیکی مدد حاصل کی جاسکے۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر میں موجود آنکولوجی بنیادی ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کا سٹیٹ کینسر انسٹی چیوٹ،سکمز صورہ، گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر،اے آئی آئی ایم ایس وِجے پور، نئے قائم شدہ سرکاری میڈیکل کالج اور نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت قائم ضلعی ڈے کیئر کیموتھراپی مراکز شامل ہیں۔میٹنگ میں تشخیصی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے حکمت عملی میں تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں جدید مالیکیولر آنکولوجی لیبارٹریاں قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جنہیں مالیکیولر پیتھالوجی، امیونوہسٹوکیمسٹری، جینومک پروفائلنگ اور نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جائے گا۔ میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ منتخب میڈیکل کالجوں میں ان لیبارٹریوں کے قیام کے لئے ڈائمنڈزپروجیکٹ کے تحت آئی سی ایم آر کو تجاویز بھیج دی گئی ہیں جبکہ اس منصوبے کو پوری یونین ٹیریٹری میں وسعت دینے کے لئے اضافی فنڈنگ کی معاونت بھی تلاش کی جا رہی ہے۔اس حکمت عملی میںکینسر کی بروقت تشخیص کے لئے مرحلہ وار بنیادوں پر میموگرافی یونٹس، پی اِی ٹی۔سی ٹی سکینرز، ایم آر آئی سہولیات، گاما کیمروں اور اینڈو سکوپی خدمات قائم کرنے کی بھی شفارش کی گئی۔ تاکہ مختلف اقسام کے کینسر کی جلد تشخیص ممکن ہو سکے۔چیف سیکرٹری نے کینسر کے علاج کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لئے ریڈیو تھراپی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سرجیکل آنکولوجی خدمات میں اضافہ، مزید بون میرو ٹرانسپلانٹ اور سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سینٹروںکے قیام اور بڑے طبی اِداروں میں کثیر شعبہ جاتی آنکولوجی ٹیمیں تشکیل دینے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔میٹنگ میں کینسر سے متعلق عوامی بیداری کے لئے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا، سکولوں، پنچایتی راج اِداروں، آنگن واڑی مراکز اور دیگر کمیونٹی پلیٹ فارموں کے ذریعے وسیع اطلاعاتی، تعلیمی اور ابلاغی (آئی اِی سی) مہمات چلانے کی تجاویز پر بھی غوروخوض کیا گیا تاکہ لوگوں کو کینسر کے خطرے کے عوامل، اِبتدائی علامات، سکریننگ کی سہولیات اور صحت مند طرزِ زِندگی سے متعلق آگاہ کیا جا سکے۔مجوزہ کینسر کیئر حکمت عملی کا مقصد کینسر کی روکتھام، سکریننگ، تشخیص، علاج، بحالی، فالج نگہداشت اور تحقیق پر مشتمل ایک مربوط نظام قائم کرنا ہے تاکہ کینسر کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے، مریضوں کی بقا کی شرح بہتر بنائی جائے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو معیاری آنکولوجی خدمات تک مساوی رَسائی فراہم کی جا سکے۔