ریاستی درجے کی بحالی کیلئے 20 جولائی کے احتجاج میں تمام جماعتوں کو دعوت دیں گے

این ڈی اے، انڈیا اتحاد اور دیگر علاقائی جماعتوں سے جنتر منتر مظاہرے میں شرکت کی اپیل// عمر عبداللہ

سرینگر//وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے این ڈی اے، انڈیا اتحاد اور دیگر قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں کو باضابطہ دعوت نامے بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی حقوق کی بحالی کی جدوجہد ہے۔یو این ایس کے مطابق سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت میں قائم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں، خواہ وہ اس وقت اسمبلی میں موجود ہوں یا ماضی میں نمائندگی کر چکی ہوں، کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دعوت صرف انڈیا اتحاد تک محدود نہیں ہوگی بلکہ این ڈی اے میں شامل جماعتوں اور ان جماعتوں کو بھی مدعو کیا جائے گا جو کسی بھی قومی اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خطوط ارسال کریں گے۔ ان میں عام آدمی پارٹی، شرومنی اکالی دل، بیجو جنتا دل، تلنگانہ کی علاقائی جماعتیں، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سمیت دیگر جماعتیں شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے تمام سیاسی قوتیں جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبے کی حمایت کریں گی اور 20 جولائی کے احتجاج میں شریک ہوں گی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اگست 2019 میں ختم کیے جانے کے بعد عوام مسلسل اس کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور موجودہ احتجاج اسی مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ریاستی درجہ صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق کی بحالی کا معاملہ ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے 7 جولائی کو منعقدہ سول سوسائٹی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں تقریباً 170 نمائندوں نے شرکت کی، جن میں مذہبی رہنما، تاجروں کی تنظیمیں، سابق بیوروکریٹس، ماہرین تعلیم، سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد اور دیگر ممتاز شہری شامل تھے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق اجلاس میں شریک تمام نمائندوں نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ ریاستی درجے کی بحالی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں مرکزی حکومت سے فوری طور پر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور 20 جولائی کے جنتر منتر احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مستقل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت متاثر ہوئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کا براہ راست اثر جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر پڑا ہے۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ کا کام متاثر ہوا ہے کیونکہ میکڈم فراہم کرنے والے پرانی قیمتوں پر سامان دینے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ ختم ہو اور تیل کی قیمتیں کم ہوں تو ترقیاتی کام دوبارہ رفتار پکڑ سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کا اس معاہدے پر موقف پہلے دن سے واضح رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ جموں و کشمیر کے ساتھ ناانصافی تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں خطے کو اپنے دریاؤں پر اختیار حاصل نہیں رہا۔ یو این ایس کے مطابق امرناتھ یاترا کے دوران قدرتی برفانی شِولنگ کے قبل از وقت پگھلنے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یاتریوں کی تعداد پہلے ہی سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق محدود ہے اور شرائن بورڈ اسی حد کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ برفانی شِولنگ کی تشکیل یا پگھلنا قدرتی عمل ہے اور اسے مذہبی عقیدے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور لیکچررز کی کمی کے بارے میں عمر عبداللہ نے بتایا کہ حکومت نے تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد تقرریوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاسوں کے دوران ارکان اکثر ڈاکٹروں، اساتذہ اور لیکچررز کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت نے خالی آسامیوں کو پر کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق نئے تعینات ہونے والے اساتذہ اور لیکچررز جلد ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔وزیر اعلیٰ نے حالیہ شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ چناب وادی اور ضلع کٹھوعہ کے بعض علاقوں میں بارشوں سے مشکلات پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے فون پر صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں، جس پر انہیں زمینی حالات سے آگاہ کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مرکزی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔