چناب پر پن بجلی منصوبوں میں تیزی، پکل دل اور کیرو تکمیل کے آخری مرحلے میں

چناب پر پن بجلی منصوبوں میں تیزی، پکل دل اور کیرو تکمیل کے آخری مرحلے میں

بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کام شروع، جموں و کشمیر پن بجلی کا بڑا مرکز بننے کی جانب گامزن

سرینگر//دریائے چناب کے وسیع پن بجلی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کے مرکزی حکومت کے منصوبے نے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ضلع کشتواڑ میں زیرِ تعمیر ایک ہزار میگاواٹ کے پکل دل اور 624 میگاواٹ کے کیرو ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ 850 میگاواٹ کے رتلے اور 540 میگاواٹ کے کوار پن بجلی منصوبوں پر بھی تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل کے لیے خصوصی ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق مرکزی شعبے کے ان چار بڑے پن بجلی منصوبوں سے مجموعی طور پر 3014 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہوگی، جس سے نہ صرف ملک کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ جموں و کشمیر کی پن بجلی صلاحیت سے بھرپور استفادہ بھی ممکن ہو سکے گا۔یو این ایس کے مطابق یہ تمام منصوبے جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کی سب سے بڑی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔مرکزی حکومت کی تازہ ترین پروجیکٹ اسیسمنٹ، انفراسٹرکچر مانیٹرنگ اینڈ اینالیٹکس فار نیشن بلڈنگ رپورٹ کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقوں، پیچیدہ ارضیاتی حالات اور انجینئرنگ کے چیلنجز کے باوجود تمام بڑے منصوبوں پر کام مقررہ رفتار سے جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ضلع کشتواڑ میں ایک ہزار میگاواٹ صلاحیت کے پاکل دل پن بجلی منصوبے پر اب تک 82.05 فیصد جسمانی پیش رفت مکمل ہو چکی ہے۔ اس منصوبے پر اب تک 9,313.54 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس کی نظرثانی شدہ لاگت 12,728 کروڑ روپے ہے۔ منصوبے کو دسمبر 2026 تک مکمل کر کے بجلی پیداوار شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح 624 میگاواٹ کے کیرو ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بھی 85.5 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جو اس وقت خطے کے تیز رفتار منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے پر اب تک 3,868.72 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس کی مجموعی لاگت 5,409 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسے بھی دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پاکل دل اور کیرو منصوبوں کی تکمیل سے دریائے چناب کے طاس سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا، قومی بجلی گرڈ مزید مستحکم ہوگا اور ملک کے صاف توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔دوسری جانب 850 میگاواٹ کے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بھی تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور اب تک تقریباً 30.4 فیصد پیش رفت ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ اس منصوبے پر 1,622.10 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اسے نومبر 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔اسی طرح 540 میگاواٹ کے کوار ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر 35.32 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس پر اب تک 1,616.87 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل مارچ 2028 تک متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق رتلے اور کوار منصوبوں میں ڈیم، زیرِ زمین پاور ہاؤسز، ہیڈ ریس ٹنلز، ڈائیورڑن اسٹرکچرز اور دیگر اہم تعمیراتی سرگرمیاں بیک وقت جاری ہیں، جس سے دونوں منصوبے اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ادھر ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ تک پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن نظام کی تعمیر پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ رتلے اور کیرو منصوبوں کی بجلی کی ترسیل کے لیے پارٹ-بی ٹرانسمیشن اسکیم، جس کی تخمینہ لاگت 218.60 کروڑ روپے ہے، عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس منصوبے پر 1.7 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔یہ ٹرانسمیشن نظام دونوں منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو بین الریاستی ٹرانسمیشن نیٹ ورک سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا تاکہ اضافی بجلی کو مؤثر انداز میں ملک کے مختلف حصوں تک منتقل کیا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ پاکل دل، کیرو، رتلے اور کوار منصوبوں پر جاری پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت دریائے چناب کے پن بجلی وسائل سے مکمل استفادہ کرنے کی اپنی طویل مدتی حکمت عملی پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملے گا اور جموں و کشمیر ملک کے اہم پن بجلی مراکز میں شامل ہو جائے گا۔