نوجوان نے بھیڑپروری کو منافع بخش صنعت بنا دیا
سرینگر// جموں و کشمیر میں جہاں سالانہ مٹن کی طلب کا ایک بڑا حصہ آج بھی دوسری ریاستوں سے درآمد کرنا پڑتا ہے، وہیں جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے ایک نوجوان نے بھیڑ بانی کو روایتی ذریعہ معاش کے بجائے جدید زرعی کاروبار کی شکل دے کر مقامی گوشت کی پیداوار بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔یو این ایس کے مطابق شوپیاں سے تعلق رکھنے والے محمد عمر نے حکومت کے ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت چند ماہ قبل تقریباً 25 لاکھ روپے کی لاگت سے ایک جدید تجارتی شیپ فارم قائم کیا۔ اس منصوبے کے لیے انہیں حکومت کی جانب سے 50 فیصد سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کی گئی، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر بھیڑ بانی کی طرف راغب کرنا ہے۔محمد عمر کے فارم میں اس وقت 105 بھیڑیں موجود ہیں، جن میں 100 نر اور پانچ مادہ بھیڑیں شامل ہیں۔ وہ مستقبل میں اپنے فارم کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مقامی سطح پر گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر بھیڑ بانی کو سائنسی بنیادوں پر اپنایا جائے تو یہ محض ایک روایتی پیشہ نہیں بلکہ ایک کامیاب کاروبار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے میں نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں بلکہ جموں و کشمیر کی دوسری ریاستوں سے بھیڑوں کی درآمد پر انحصار بھی نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر سال تقریباً 600 لاکھ کلوگرام مٹن استعمال ہوتا ہے، جبکہ مقامی پیداوار اس طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اسی وجہ سے خطے کو ہر سال تقریباً 350 لاکھ کلوگرام مٹن اور بھیڑیں دیگر ریاستوں سے منگوانی پڑتی ہیں، جس پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔اس فرق کو کم کرنے کے لیے حکومت نے ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مویشی پروری، سائنسی افزائش نسل اور تجارتی بنیادوں پر بھیڑ بانی کے فروغ کا جامع منصوبہ شروع کیا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت آسٹریلیا سے 900 اعلیٰ نسل کی بھیڑیں، جن میں 450 ڈورپر اور 450 ٹیکسل نسل شامل ہیں، درآمد کی گئی ہیں۔یو این ایس کے مطابق ان جانوروں کو جموں و کشمیر کے سرکاری بریڈنگ فارموں میں رکھا گیا ہے تاکہ مقامی نسلوں کی جینیاتی بہتری، گوشت کی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی بھیڑوں پر انحصار میں کمی لائی جا سکے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2022 تک کشمیر میں بھیڑوں کی مجموعی تعداد تقریباً 19.1 لاکھ تھی، جبکہ اس شعبے سے 70 ہزار سے زائد رجسٹرڈ بریڈر وابستہ ہیں۔ بارہمولہ اس حوالے سے سب سے بڑا ضلع ہے جہاں تقریباً 2.86 لاکھ بھیڑیں اور 11,500 سے زیادہ بریڈر موجود ہیں۔شوپیاں بھی مویشی پروری کے اہم اضلاع میں شمار ہوتا ہے، جہاں بھیڑوں اور بکریوں کی مجموعی تعداد تقریباً 1.42 لاکھ ہے۔ ضلع میں ہر سال تقریباً 8.96 لاکھ کلوگرام مٹن اور 2.79 لاکھ کلوگرام اون پیدا کی جاتی ہے۔ مالی سال 2025-26کے دوران حکومت کی مختلف اسکیموں کے تحت شوپیاں میں 191 تجارتی شیپ فارم بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ اس شعبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔










