پونچھ میں فوج کی فرضی مشق، سرحدی علاقوں میں سیکورٹی چوکسیاں مزید سخت

پونچھ میں فوج کی فرضی مشق، سرحدی علاقوں میں سیکورٹی چوکسیاں مزید سخت

سرحدی عوام سے مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے اور افواہوں سے گریز کی اپیل

سرینگر// جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ میں سیکورٹی چوکسیاں مزید سخت کرتے ہوئے بھارتی فوج نے اتوار کو مختلف مقامات پر فرضی مشق (موک ڈرل) کا انعقاد کیا۔ اس مشق کا مقصد سیکورٹی فورسز کی عملی تیاری کا جائزہ لینے، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو ہنگامی صورتحال میں حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنا تھا۔یو این ایس کے مطابق سرکاری حکام کے مطابق مشق کے دوران دہشت گرد حملے کی فرضی صورتحال پیدا کی گئی، جس میں شہریوں کے محفوظ انخلا، سیکورٹی ضابطوں پر عمل درآمد، مختلف سیکورٹی ایجنسیوں، سول انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان رابطے اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو جانچا گیا۔حکام نے بتایا کہ یہ موک ڈرل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب متعدد مقامات، خصوصاً مینڈھر سیکٹر اور دیگر سرحدی علاقوں میں بیک وقت منعقد کی گئی، جہاں راشٹریہ رائفلز اور فوج کی دیگر یونٹوں نے حصہ لیا۔ اس دوران اندرونی علاقوں میں بھی مشقیں کی گئیں تاکہ مجموعی آپریشنل تیاری اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا جائزہ لیا جا سکے۔سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسی مشقیں عوام کو ہنگامی حالات میں درست طرزِ عمل اختیار کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہیں اور انہیں ہر وقت چوکس رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔مینکوٹ کے سابق بلاک ڈیولپمنٹ کونسل رکن امان اللہ چودھری نے کہا کہ فوج کی جانب سے اس نوعیت کی مشقیں عوام کے لیے انتہائی مفید ہیں کیونکہ ان سے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنی جان و مال کا تحفظ کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام ہمیشہ ملک کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہر ضرورت کے وقت اپنا کردار ادا کریں گے۔یو این ایس کے مطابق ایک اور مقامی شہری محمد فاروق نے کہا کہ موک ڈرل سے نہ صرف عوام میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے بارے میں شعور پیدا ہوتا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے، جہاں ہر وقت مستعد رہنا ضروری ہوتا ہے۔ادھر سیکورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کے پیش نظر پونچھ کے سرنکوٹ اور مینڈھر علاقوں میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گرد سرحد پار سے دراندازی یا علاقے میں تخریبی کارروائیوں کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے پیش نظر فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔حکام نے بتایا کہ اہم شاہراہوں، عوامی مقامات، حساس تنصیبات، بازاروں اور تعلیمی اداروں پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ ایریا ڈومینیشن پٹرولنگ، رات کے گشت، مشتبہ دراندازی کے راستوں کی نگرانی، موبائل وہیکل چیک پوسٹس اچانک تلاشی مہم، پیدل گشت اور فوری کارروائی کرنے والی خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔سیکورٹی ادارے مقامی پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اطلاعات کے تبادلے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، چیکنگ کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، غیر مصدقہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور کسی بھی مشکوک نقل و حرکت، لاوارث سامان یا غیر معمولی سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی پولیس تھانے یا سیکورٹی اداروں کو دیں۔ ان کے مطابق عوام کا تعاون اور مسلسل چوکسی ہی علاقے میں امن، سلامتی اور معمول کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔