وزارتِ داخلہ کے آخری استفسار کا جموں و کشمیر انتظامیہ نے جواب دے دیا
سرینگر// جموں و کشمیر انتظامیہ نے 23 جموں و کشمیر انتظامی سروس (جے کے اے ایس) افسران کو بھارتی انتظامی سروس (آئی اے ایس) میں شامل کرنے کے معاملے پر مرکزی وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) کی جانب سے اٹھائے گئے آخری استفسار کا جواب ارسال کر دیا ہے، جس کے بعد ان افسران کی شمولیت کا باضابطہ نوٹیفکیشن کسی بھی وقت جاری ہونے کی توقع ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے رواں سال 23 اور 24 اپریل کو نئی دہلی میں منعقدہ اجلاس کے دوران 2019 اور 2020 کی منظور شدہ آسامیوں کے خلاف 23 جے کے اے ایس افسران کو آئی اے ایس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ تاہم گزشتہ دو ماہ کے دوران نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر وزارتِ داخلہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے یہ وضاحت طلب کی تھی کہ آیا اجلاس کے بعد اس معاملے سے متعلق کوئی نئی عدالتی کارروائی یا قانونی رکاوٹ تو سامنے نہیں آئی۔ذرائع کے مطابق متعلقہ محکمہ نے وزارتِ داخلہ کو مطلع کیا ہے کہ اپریل میں یو پی ایس سی کی سفارشات کے بعد نہ تو کسی نئی قانونی کارروائی کا آغاز ہوا ہے اور نہ ہی مجوزہ افسران کی شمولیت سے متعلق کوئی نیا مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے تمام اعتراضات اور استفسارات کا ازالہ ہو چکا ہے، جس کے بعد اب فائل جلد ہی محکمہ برائے عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کو بھیجی جائے گی، جہاں سے قواعد و ضوابط کے مطابق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر بعض انتظامی اور قانونی امور کی وجہ سے ہوئی تھی، تاہم اب یہ تمام معاملات طے پا چکے ہیں اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے بھی مزید کوئی وضاحت طلب نہیں کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق 23 افسران میں اکثریت کو 2019 کی خالی آسامیوں کے خلاف آئی اے ایس میں شامل کیا جائے گا، جبکہ باقی افسران کو 2020 کی آسامیوں کے تحت ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔ متعلقہ بیچ اور سنیارٹی کا تعین باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ سات ایسے جے کے اے ایس افسران، جو یا تو ریٹائر ہو چکے ہیں یا جلد ریٹائر ہونے والے ہیں، کی شمولیت سے متعلق آسامیوں کو فی الحال محفوظ رکھا جائے گا اور انہیں آئندہ بھرتی کے عمل کے دوران نئی آسامیوں کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق قابل ذکر ہے کہ یو پی ایس سی نے نہ صرف 23 جے کے اے ایس افسران کی آئی اے ایس میں شمولیت کی منظوری دی ہے بلکہ اس سے قبل عبوری بنیادوں پر آئی اے ایس میں شامل کیے گئے تین افسران کی مستقلی کی بھی توثیق کر دی ہے، اگرچہ یہ تینوں افسر پہلے ہی آئی اے ایس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔جموں و کشمیر میں تقریباً چار برس بعد جے کے اے ایس افسران کو آئی اے ایس میں شامل کرنے کا عمل مکمل ہونے جا رہا ہے۔ اس سے قبل 4 اگست 2022 کو 16 جے کے اے ایس افسران کو آئی اے ایس میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد قانونی تنازعات اور سنیارٹی سے متعلق معاملات کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔یاد رہے کہ 2010 سے 2022 تک تقریباً بارہ برسوں تک بھی جے کے اے ایس افسران کی آئی اے ایس میں شمولیت کا عمل مختلف عدالتی مقدمات، سنیارٹی تنازعات اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے متاثر رہا تھا۔جموں و کشمیر کے اے جی ایم یو ٹی کیڈر کا حصہ بننے کے بعد یہاں تعینات آل انڈیا سروسز کے افسران کی خدمات اروناچل پردیش، گوا، میزورم، دہلی، جموں و کشمیر، لداخ، انڈمان و نکوبار، چندی گڑھ، دادرا و نگر حویلی، دمن و دیو اور لکشدیپ سمیت دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی انجام دی جا سکتی ہیں۔










