رواں ماہ میں تیسری ژالہ باری، ہزاروں باغبانوں کی سال بھر کی محنت خطرے میں
سرینگر// جنوبی کشمیر کے سیب پیدا کرنے والے ضلع شوپیان میں مسلسل ژالہ باری نے باغبانوں کے لیے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔ ضلع کے متعدد علاقوں میں رواں ماہ تیسری بار ہونے والی شدید ژالہ باری سے سیب کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد کاشتکاروں میں رواں سیزن کی پیداوار اور آمدنی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق حالیہ ژالہ باری نے وسیع رقبے پر پھیلے باغات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی باغبانوں کے مطابق ژالہ باری درختوں پر موجود سیبوں کو بری طرح متاثر کیا۔ کئی باغات میں پھل زخمی اور داغدار ہو گئے، جس کے باعث ان کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں کمی آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔مڑہامہ گاؤں کے نوجوان باغبان جنید احمد نے بتایا کہ ژالہ باری سے قبل فصل کی صورتحال انتہائی حوصلہ افزا تھی اور اس سال اچھی پیداوار کی امید تھی، لیکن موسمی تباہی نے مہینوں کی محنت کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ان کے باغ میں تقریباً 50 سے 60 فیصد فصل متاثر ہوئی ہے۔ژالہ باری سے مڑہامہ، کیگام، اوڈھو، دمپورہ، دریو، چمب گنڈ اور نادی گنڈ سمیت متعدد سیب پیدا کرنے والے علاقے متاثر ہوئے ہیں، جہاں باغبان نقصانات کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مسلسل موسمی جھٹکوں نے باغبانی کے شعبے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ کیگام کے ایک باغبان فاروق احمد نے کہا کہ شوپیان کی معیشت کا بڑا انحصار سیب کی کاشت پر ہے اور اگر فصل کو اسی طرح نقصان پہنچتا رہا تو ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل ژالہ باری نہ صرف پیداوار کم کرتی ہے بلکہ پھل کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے کسانوں کو منڈیوں میں کم قیمت ملتی ہے۔شوپیان کشمیر کے اہم سیب پیدا کرنے والے اضلاع میں شمار ہوتا ہے اور یہاں کی بڑی آبادی باغبانی سے وابستہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں غیر متوقع موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا براہ راست اثر باغبانی کے شعبے پر پڑ رہا ہے۔ادھر ضلع ترقیاتی کمشنر ششیر گپتا نے متاثرہ باغبانوں کو یقین دلایا کہ محکمہ باغبانی کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں نقصانات کا تفصیلی سروے کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق سروے رپورٹ کی بنیاد پر متاثرین کو ممکنہ امداد اور ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔باغبانوں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ مسلسل تین بار ڑالہ باری نے انہیں شدید مالی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور اگر فوری ریلیف اور طویل مدتی حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو خطے کی باغبانی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔










