جموں و کشمیر میں بجلی فیس کی وصولی پہلی بار 5200 کروڑ روپے سے تجاوز

جموں و کشمیر میں بجلی فیس کی وصولی پہلی بار 5200 کروڑ روپے سے تجاوز

توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت، 2028 تک4 پن بجلی منصوبوں سے پیداواری صلاحیت دوگنی ہونے کی امید

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے بجلی شعبے نے مالی سال 2025-26کے دوران محصولات کی وصولی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے پہلی مرتبہ 5200 کروڑ روپے سے زائد آمدنی حاصل کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کامیابی بلنگ نظام میں بہتری، واجبات کی مؤثر وصولی، جدید میٹرنگ اور تکنیکی و تجارتی نقصانات میں کمی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر پائور ڈسٹی بیوشن کارپوریشن لمیٹیڈنے اکیلے مالی سال 2025-26کے دوران 2545 کروڑ روپے کی وصولی کی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 250 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ یہ ادارے کی تاریخ کی بہترین سالانہ کارکردگیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران بجلی محصولات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2021-22میں بجلی نرخوں کی مد میں 2716 کروڑ روپے وصول کیے گئے تھے، جو بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 4908 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جبکہ مالی سال 2025-26میں یہ رقم پہلی بار 5200 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ محصولات میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں جدید میٹرنگ نظام، وصولی مہمات میں تیزی، صارفین کے لیے بہتر بلنگ سسٹم اور تکنیکی و تجارتی نقصانات میں کمی شامل ہیں۔جموں و کشمیر الیکٹریکل انجینئرز ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ خاص طور پر شہری علاقوں میں بجلی کے نقصانات کم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کئی شہری سب ڈویڑنوں میں فنی و ترسیلی نقصانات نقصانات 15 فیصد سے بھی کم سطح پر لائے گئے ہیں، جس سے نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ نظام کی مجموعی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر میں بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران فی کس بجلی کھپت 1171 کلو واٹ آور سے بڑھ کر 1488 کلو واٹ آور تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مجموعی بجلی استعمال 15,225 ملین یونٹس سے بڑھ کر 20,830 ملین یونٹس ہو گیا ہے۔نومبر 2025 تک جموں و کشمیر میں بجلی صارفین کی تعداد تقریباً 24.59 لاکھ تک پہنچ چکی تھی، جن میں گھریلو، تجارتی، صنعتی اور ادارہ جاتی صارفین شامل ہیں۔اگرچہ محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم بجلی شعبہ اب بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2025-26کے دوران بجلی کی خریداری اور ترسیلی اخراجات کا تخمینہ 5924.15 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 5620.88 کروڑ روپے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ شعبے کی مجموعی مالی ضروریات کا تقریباً 87 فیصد حصہ بجلی کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر بجلی پیداوار بڑھانے کی ضرورت مزید اہم ہو گئی ہے۔جموں و کشمیر میں پن بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً 18 ہزار میگاواٹ سمجھی جاتی ہے، جس میں سے 14,867 میگاواٹ کی صلاحیت کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ تاہم اب تک صرف 3540.15 میگاواٹ یعنی تقریباً 24 فیصد صلاحیت سے ہی استفادہ کیا جا سکا ہے۔اس وقت جموں و کشمیر میں 31 پن بجلی منصوبے فعال ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3540.15 میگاواٹ ہے۔ ان میں این ایچ پی سی کے چھ منصوبے، جموں کشمیر پائور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے 13 منصوبے اور نجی شعبے کے 12 منصوبے شامل ہیں۔حکومت اس وقت چار بڑے پن بجلی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے، جن میں پکھل ڈل ہائیڈرولک پروجیکٹ،راتلی سکینڈ۔ کیرو اور کاور پن بجلی پروجیکٹ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس سے جموں و کشمیر کی موجودہ پن بجلی پیداوار تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔دریں اثنا، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ نومبر 2025 تک جموں و کشمیر میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن صلاحیت 34,839.06 ایم وی اے تک پہنچ چکی تھی جبکہ بجلی نیٹ ورک کا دائرہ 1,76,601 کلومیٹر سے تجاوز کر گیا تھا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020 کے بعد سے ترسیل اور تقسیم کی مجموعی صلاحیت میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد بجلی فراہمی کو مزید مستحکم بنانا، لوڈ شیڈنگ میں کمی لانا اور صارفین کو معیاری خدمات فراہم کرنا ہے۔