سیاحتی و تجارتی شعبے میں تشویش،سیاحتی سیزن کے دوران بھاری نقصان کا خدشہ
سرینگر// سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر تک مکمل طور پر بند رہے گا تاکہ رن وے کی ضروری مرمت اور دیکھ بھال کا کام انجام دیا جا سکے۔ ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق اس دوران تمام فضائی پروازیں معطل رہیں گی۔حکام نے بتایا کہ مکمل بندش سے قبل مرحلہ وار مرمتی شیڈول پر عمل کیا جائے گا۔ جولائی ماہ سے ہر ہفتے دو دن ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بند رکھی جائیں گی، جس کے بعد یکم اکتوبر سے پندرہ روزہ مکمل شٹ ڈاؤن نافذ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ رن وے کی مرمت فضائی آپریشنز کی حفاظت اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے ناگزیر ہے۔یو این ایس کے مطابق یاد رہے کہ بھارتی فضائیہ کی جانب سے 6 اپریل کو جاری کردہ نوٹس ٹو ایئرمین کے بعد سری نگر ہوائی اڈے پر پروازی سرگرمیوں میں پہلے ہی پابندیاں عائد ہیں۔ اس وقت پروازوں کا آپریشن صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک محدود ہے، جبکہ اس سے قبل ہوائی اڈہ رات 10 بجے تک فعال رہتا تھا۔مجوزہ بندش نے جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے آغاز میں درگا پوجا کی تعطیلات کے دوران مغربی بنگال سمیت ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کرتے ہیں، ایسے میں فضائی رابطہ منقطع ہونے سے بکنگ منسوخ ہونے اور مقامی معیشت کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ہوٹل مالکان، ٹور آپریٹروں اور دیگر سیاحتی شعبوں سے وابستہ افراد نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مرمتی کام کے شیڈول پر نظرثانی کریں تاکہ سال کے مصروف ترین سیاحتی سیزن کے دوران وادی کی فضائی رابطہ کاری متاثر نہ ہو۔یو این ایس کے مطابق سیاحت اور سفری شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وادی میں سیاحتی سرگرمیاں حالیہ ہفتوں میں بحال ہونا شروع ہوئی تھیں، تاہم ہوائی اڈے کی بندش اس بہتری کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق وادی کے ہوٹل مالکان، ٹریول ایجنٹس، ٹور آپریٹرز اور دیگر کاروباری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں سیاحوں کی بکنگ منسوخ ہو سکتی ہے، سفری منصوبے متاثر ہوں گے اور سیاحت سے وابستہ کاروباروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کشمیر کی معیشت میں سیاحت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور ہزاروں خاندان براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں جب وادی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سیاحوں کی آمد میں دوبارہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا تھا، ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش نے صنعت سے وابستہ افراد کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔جموں و کشمیر ہوٹلئیرز کلب کے صدر مشتاق احمد چایا نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سیاحتی شعبہ ایک مشکل دور سے نکل کر دوبارہ استحکام کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن ہوائی اڈے کی دو روزہ بندش اس رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’سیاحت دوبارہ فروغ پا رہی تھی اور سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ایسے وقت میں یہ فیصلہ صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ رن وے مرمت کے کاموں کے لیے کوئی متبادل طریقہ کار اختیار کریں تاکہ سیاحت متاثر نہ ہو۔‘‘چایا نے کہا کہ کشمیر کا واحد شہری ہوائی اڈہ پورے خطے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور ہر ہفتے دو دن اس کی بندش سے نہ صرف سیاح بلکہ مقامی مسافر بھی مشکلات کا شکار ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مکمل بندش کے بجائے محدود اوقات میں پروازوں کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ تعمیراتی کام بھی جاری رہے اور فضائی رابطہ بھی مکمل طور پر منقطع نہ ہو۔یو این ایس کے مطابق دریں اثنا، ٹریول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر (ٹاسک) کے صدر محمد ابراہیم سیہ نے اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لیے بغیر ایسا اہم فیصلہ کرنا مناسب نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہفتے کے سات دنوں میں سے دو دن ہوائی اڈہ مکمل طور پر بند رہے گا تو لازمی طور پر پروازوں کی منسوخی، بکنگ میں رد و بدل اور مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔سیاہ نے کہا’’کشمیر آنے والے سیاح عموماً مختصر دورانیے کے سفر کا منصوبہ بناتے ہیں۔ جب انہیں معلوم ہوگا کہ ہفتے میں دو دن ہوائی اڈہ بند رہتا ہے تو ان میں سے کئی لوگ اپنا پروگرام تبدیل یا منسوخ کر سکتے ہیں،‘‘ ۔انہوں نے مزید کہا کہ سرینگر ہوائی اڈہ پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور گنجائش کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں باقی پانچ دنوں میں اضافی مسافروں کا دباؤ سنبھالنا ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق اگر دو دن کی بندش کے باعث تمام مسافروں کو باقی دنوں میں سفر کرنا پڑا تو ہوائی اڈے، ایئر لائنز اور دیگر متعلقہ خدمات پر غیر معمولی دباؤ پڑے گا جس سے مسافروں کو مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔معروف ٹریول ایجنٹ فرح رشید نے بھی اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد سیاح پہلے ہی اپنے سفری منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں اور بندش کے اعلان کے بعد ان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ کشمیر آنے والے بہت سے خاندان اور سیاحتی گروپ محدود مدت کے لیے سفر کرتے ہیں اور ان کے پروگرام عموماً فلائٹ شیڈول کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اگر ہوائی اڈہ مخصوص دنوں میں بند رہے گا تو ان کے لیے سفری منصوبہ بندی مشکل ہو جائے گی۔فرح رشید کے مطابق ٹریول ایجنٹس کو بھی فلائٹس، ہوٹل بکنگ اور مقامی ٹرانسپورٹ کے انتظامات ازسرنو ترتیب دینا ہوں گے، جس سے اخراجات میں اضافہ اور انتظامی مشکلات پیدا ہوں گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی فضائیہ نے فروری میں ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ یکم اگست سے 15 اکتوبر تک ہر ہفتے ہفتہ اور اتوار کو ہوائی اڈہ بند رکھا جائے گا، تاہم بعد ازاں اس شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے پیر اور منگل کو بندش کے دن مقرر کیے گئے۔ہوائی اڈے کے ایک سینئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والی یہ بندش ستمبر کے اختتام تک جاری رہے گی، جبکہ اس کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے کر مزید فیصلہ کیا جائے گا۔سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ تعمیراتی کاموں کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کریں یا محدود اوقات میں فضائی آپریشن جاری رکھنے کے امکانات کا جائزہ لیں تاکہ وادی کی سیاحتی صنعت کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فضائی رابطے میں طویل خلل برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاحوں کی آمد پر پڑیں گے بلکہ ہوٹلوں کی بکنگ، ٹیکسی سروسز، ہاؤس بوٹس، دستکاری کی صنعت، ریستورانوں اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ کشمیر کی معیشت میں سیاحت کا حصہ انتہائی اہم ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل کے درمیان ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ ترقیاتی کام بھی جاری رہیں اور سیاحتی شعبے کی بحالی کا عمل بھی متاثر نہ ہو۔










