چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرمیں آیوش اِنفراسٹرکچر ، رَسائی اور ویلنس ٹوراِزم کو مضبوط بنانے پر زور دیا

ایکشن پلان برائے 2026-27 کی منظوری کیلئے گورننگ باڈی میٹنگ کی صدارت کی

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے نیشنل آیوش مشن (این اے ایم) کے تحت جموں و کشمیر آیوش سوسائٹی کے گورننگ باڈی میٹنگ کی صدارت کی جس میںسٹیٹ اینول ایکشن پلان (ایس اے اے پی) 2026-27 کی منظوری دی گئی تاکہ اسے مرکزی وزارت آیوش کو پیش کیا جا سکے۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ، کمشنر سیکرٹری منصوبہ بندی، کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم، منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن، ڈائریکٹر آیوش اور دیگرسینئر اَفسران نے شرکت کی۔ٍٍچیف سیکرٹری نے احتیاطی اور مجموعی صحت نگہداشت میں آیوش نظام کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کرایک مضبوط ویلنس پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے کہا کہ ویلنس سیاحت ملک بھر میں ایک بڑی کشش کے طور پر اُبھری ہے اورجموں و کشمیر کے عالمی سطح پر مشہور سیاحتی مقامات کے پیش نظر اِس میں بے پناہ اِمکانات موجود ہیں۔ اُنہوں نے کیرالہ، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں کی مثالین پیش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کوایک نمایاں ویلنس اور ہیلتھ کیئر منزل کے طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اَتل ڈولو نے محکمہ کو ہدایت دی کہ جموںوکشمیر یوٹی کے ہر میڈیکل کالج اور ضلع ہسپتال میں آیوش کے اہم عوامی فلاحی پروگراموں کی خدمات دستیاب بنائی جائیں۔ ان پروگراموں میں اوسٹیو آرتھرائٹس اور دیگر عضلاتی و ہڈیوں کے امراض کی روکتھام و اِنتظام کا قومی پروگرام، کینسر، ذیابیطس، قلبی امراض اور فالج کی روکتھام و کنٹرول کا قومی پروگرام (این پی ی ڈِی سی ایس)، آیوش زچہ و بچہ مداخلت، آیوش جیر یاٹرک ہیلتھ کیئر سروسز، سکولی بچوں کے لئے آیوش کے ذریعے صحت مند طرزِ زِندگی، آیوش پالی ایٹو سروسز اور آیوش موبائل میڈیکل یونٹس شامل ہیں۔ اُنہوں نے ان پروگراموں کی رَسائی اورکوریج کو کافی حد تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان پروگراموں کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔اُنہوں نے مضبوط نگرانی کے طریقہ کار پر زور دیتے ہوئے ڈائریکٹر آیوش کو ہدایت دی کہ وہ آیوش صحت مراکز اور تعلیمی اِداروں کے باقاعدہ دورے کریں تاکہ ان کے کام کاج کا جائزہ لیا جا سکے اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔چیف سیکرٹری نے مزید ہدایت دی کہ سرکاری اِداروں میں جڑی بوٹیوں کے باغات قائم کئے جائیں اور مقامی سیلف ہیلپ گروپوں کو دواؤں میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں کی پروسسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں شامل کیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور مقامی طبی مصنوعات کو فروغ ملے۔اُنہوںنے آیوش کالجوں اور تعلیمی اِداروں کے مؤثر کام کاج کے لئے نامزد بھرتی ایجنسیوں کے ذریعے تدریسی عملے کی بھرتی کے عمل کو تیز کرنے پر بھی زور دیا تاکہ تعلیمی معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔اِس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ شیلندر کمار نے محکمہ کو مشورہ دیا کہ موجودہ سہولیات کی توسیع اور استحکام پر توجہ دی جائے تاکہ ایک ہی چھت کے نیچے آیوش کی وسیع تر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل کا بہترین اِستعمال متعدد محدود اثر رکھنے والے منصوبوں پر وسائل تقسیم کرنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر نتائج دے گا۔اُنہوں نے منشیات کے استعمال کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے نشہ کے عادی اَفراد کی بحالی کے اَقدامات میں آیوش مداخلتوں کو شامل کرنے کی وکالت کی اور محکمہ پر زور دیا کہ وہ جاری ’نشہ مُکت ابھیان‘میں فعال کردار اَدا کرے۔ اُنہوں نے اِس مسئلے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لئے پورے حکومتی نظام کے مشترکہ نقطٔ نظر کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ایم راجو نے میٹنگ کو جموں و کشمیر میں آیوش صحت خدمات، تعلیمی اِداروں اور عوامی صحت کے اَقدامات کی توسیع اور مضبوطی کے روڈ میپ سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ مجوزہ سالانہ ایکشن پلان ضلعی سطح کے آیوش عہدیداروں اور آیوش میڈیکل کالجوں کے سربراہان سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے جس میں صحت کے بنیادی ڈھانچے، ہیومن ریسورسز کی ترقی، اِدارہ جاتی صلاحیتوں میں اِضافے اور معیاری خدمات کی فراہمی کے لئے خاطر خواہ سرمایہ کاری کی تجویز شامل ہے۔دورانِ میٹنگ ڈائریکٹر آیوش ڈاکٹر اَجے کمارتِکو نے بتایا کہ اگرچہ وزارت آیوش نے 58.539 کروڑ روپے کے عارضی وسائل مختص کئے ہیں، تاہم یونین ٹیریٹری نے آیوش سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب اور سابقہ پروگراموں کے تحت فنڈز کے مؤثر اِستعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے 91.997 کروڑ روپے کا جامع ایکشن پلان تجویز کیا ہے۔انہوں نے گورننگ باڈی کو مزید بتایا کہ اس منصوبے میں 523 آیوشمان آروگیا مندروں کو مضبوط بنانا، عوامی صحت اِداروں میں آیوش یونٹوں کی توسیع، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو ضروری اَدویات کی بلا تعطل فراہمی، موجودہ آیوش ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی اَپ گریڈیشن اور پسماندہ علاقوں میں نئی صحت سہولیات کی تیز رفتار تکمیل شامل ہے۔گورننگ باڈی نے نیشنل آیوش مشن کے تحت حکمرانی اور عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لئے گو جموں و کشمیر آیوش سوسائٹی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی تشکیل نو کو بھی منظوری دی جس میں محکمہ صحت و طبی تعلیم، نیشنل ہیلتھ مشن، خزانہ، منصوبہ بندی اور دیگر تکنیکی شراکت داروں کی نمائندگی شامل ہوگی۔ میٹنگ میں آیوش کی وزارت کی طرف سے قومی آیوش مشن کے مختلف حصوں کے تحت منظور شدہ اَفرادی قوت کی شمولیت پر بھی غوروخوض کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے آیوش نظام کو مضبوط بنانے کے تئیں حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوامی رَسائی کے پروگراموں کے فروغ اور آیوش علاج و ویلنس طریقوں کے فوائد سے متعلق عوامی بیداری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوںکو قابل رسائی ،سستی اور جامع صحت خدمات فراہم کی جا سکیں۔