power

جموں کشمیر میں بجلی بحران کا خدشہ، 300 میگاواٹ تک قلت متوقع

’شارٹ ترم پائور مارکیٹ‘ سے کمی پوری کرنے کا منصوبہ،سردیوں میں 66 فیصد درآمدی بجلی پر منحصر رہا

سرینگر// یو این ایس// جموں کشمیر میں آنے والے مہینوں کے دوران بجلی کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکام نے شارٹ ٹرم پاور مارکیٹ سے بجلی خرید کر ممکنہ بحران سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جموں کشمیر اسٹیٹ لوڈ ڈسپیچ سینٹر (ایس ایل ڈی سی) نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ خطے کو 100 سے 300 میگاواٹ تک بجلی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) کے اپریل میں منعقدہ اجلاس میں جموں کشمیر حکام نے بتایا کہ بجلی کی طلب میں اضافے اور مقامی پیداوار میں کمی کے باعث آنے والے وقت میں معمولی مگر اہم بجلی خسارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اجلاس کے دوران ناردرن ریجنل پاور کمیٹی (این آر پی سی) کو آگاہ کیا گیا کہ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے شارٹ ٹرم پاور مارکیٹ کا سہارا لیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق ایس ایل ڈی سی نے بتایا کہ مئی کے موجودہ مہینے میں جموں کشمیر کو تقریباً 152 میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے جبکہ جون میں یہ خسارہ 103 میگاواٹ تک رہنے کا امکان ہے۔ اس سے قبل اپریل میں بھی 79 میگاواٹ بجلی کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ موسم سرما کے دوران جموں کشمیر اور لداخ کو شدید بجلی بحران سے بچانے کیلئے بڑے پیمانے پر درآمدی اور تھرمل توانائی پر انحصار کرنا پڑا۔ جنوری 2026 میں دونوں خطے تقریباً ایک ہزار میگاواٹ کوئلہ اور گیس سے تیار شدہ بجلی استعمال کررہے تھے کیونکہ آبی بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 کے دوران جموں کشمیر اور لداخ کو مجموعی طور 3767.44 میگاواٹ بجلی مختص کی گئی تھی، جس میں ریاستی، نجی اور مرکزی شعبے کا حصہ شامل تھا۔ اس میں سے تقریباً 999.21 میگاواٹ تھرمل توانائی تھی جبکہ 2673.1 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کی جارہی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی بجلی میں 95.13 میگاواٹ نیوکلیئر پاور جبکہ 1115.88 میگاواٹ ہائیڈل پاور شامل تھی۔ تاہم سردیوں کے دوران آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث پن بجلی پیداوار متاثر رہی، جس کے نتیجے میں خطے کو درآمدی بجلی پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں جموں کشمیر اور لداخ تقریباً 66 فیصد درآمدی بجلی پر منحصر رہے، جبکہ دسمبر کے مہینے میں جموں کشمیر کو اپنی ضرورت کا 95 فیصد سے زائد بجلی باہر سے منگوانی پڑی تھی۔یو این ایس کے مطابق توانائی شعبے کے حکام کے مطابق جموں کشمیر میں پیک آورس کے دوران 2900 سے 3100 میگاواٹ تک بجلی درآمد کی جارہی ہے تاکہ گھریلو، تجارتی اور صنعتی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بجلی کی بڑھتی مانگ، محدود مقامی پیداوار اور موسمی اثرات کے باعث حکومت کو طویل مدتی توانائی منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی تاکہ مستقبل میں درآمدی بجلی پر انحصار کم ہوسکے۔