جموں و کشمیر میں پن بجلی ڈھانچے کی توسیع کی سمت اہم پیش رفت

بگلیار بجلی پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کیلئے پروجیکٹ رپورت تیار کرنے کا عمل شروع

سرینگر/ یو این ایس//جموں و کشمیر میں توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پن بجلی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خطے کی آبی وسائل سے بھرپور صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت اور متعلقہ ادارے بجلی پیداوار میں خودکفالت کے ہدف کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں نئے اور توسیعی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے علاقے میں نہ صرف توانائی کے استحکام بلکہ صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور مجموعی معاشی بہتری کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے مجوزہ بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ اسٹیج۔III کیلئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کے سلسلے میں اوپن ٹینڈر جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام جموں و کشمیر میں پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید وسعت دینے اور خطے کی بجلی پیداوار صلاحیت میں اضافہ کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔سرکاری نوٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے کیلئے جامع ڈی پی آر تیار کی جائے گی جس میں تکنیکی، انجینئرنگ، ماحولیاتی اور مالیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ شامل ہوگا تاکہ مستقبل میں منصوبے پر عمل درآمد کیلئے مکمل خاکہ تیار کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے سے نہ صرف بجلی کی اضافی پیداوار ممکن ہوگی بلکہ جموں و کشمیر کے توانائی شعبے کو بھی مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ٹینڈر نوٹس کے مطابق مشاورتی خدمات کیلئے بولی عمل ’’ہائی برڈ موڈ‘‘ میں منعقد ہوگا جبکہ دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو تکنیکی اور مالیاتی بولیاں الگ الگ جمع کرانی ہوں گی۔یو این ایس کے مطابق ٹینڈر دستاویزات کی دستیابی کا عمل 23 مئی 2026 سے شروع ہوگا جبکہ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ موصولہ بولیاں 29 جون 2026 کو سری نگر میں کھولی جائیں گی۔ ا طلاعات کے مطابق اس کے علاوہ دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کیلئے 4 جون 2026 کو دوپہر 2 بجے ایک پری۔بڈ میٹنگ بھی منعقد ہوگی جو ہائی برڈ موڈ میں انجام دی جائے گی۔توانائی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق بگلیہار پروجیکٹ کا تیسرا مرحلہ جموں و کشمیر میں پن بجلی صلاحیت بڑھانے، توانائی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے اور مستقبل میں بجلی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پن بجلی منصوبوں کی توسیع نہ صرف توانائی کے شعبے کیلئے اہم ہے بلکہ اس سے روزگار، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کی امید ہے۔