بے روزگاری کے حل کیلئے شاہ ہمدانؒ کے معاشی ماڈل کی اہمیت مزید بڑھ گئی// مولانا اخضر حسین
سرینگر/ یو این ایس// انجمن علمائے احناف کے سربراہ اور معروف خطیب مولانا اخضر حسین نے بانی اسلام کشمیر حضرت سید علی ہمدانیؒ کے عرس مبارک کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حضرت شاہ ہمدانؒ کو ’’محسن کشمیر‘‘ قرار دیا ہے۔یو این ایس کو موصولہ بیان میں مولانا اخضر حسین نے کہا کہ حضرت شاہ ہمدانؒ نے نہ صرف وادی کشمیر میں اسلام کی تبلیغ اور روحانی اصلاح کا عظیم فریضہ انجام دیا بلکہ انہوں نے خطے کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد بھی رکھی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ ہمدانؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے کشمیر میں اسلام کے پھیلائو کے علاوہ ہنر، دستکاری، تجارت اور معاشی خود کفالت کے نئے راستے متعارف کروائے جو آج بھی ریاست کی معیشت کا اہم ستون ہیں۔مولانا نے کہا کہ حضرت میر سید علی ہمدانیؒ نے مقامی آبادی کو قالین بافی، کشیدہ کاری، شال سازی اور دیگر دستکاریوں کی تربیت دی جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ کشمیر کی مصنوعات کو عالمی سطح پر پہچان بھی ملی۔انہوں نے کہا کہ یہی معاشی ویژن آج کے دور میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اگر حضرت شاہ ہمدانؒ کے معاشی فلسفے کو اپنایا جائے تو نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ مولانا کے مطابق دستکاری، چھوٹے کاروبار، مقامی صنعتوں اور خود روزگار کے ماڈلز کو فروغ دے کر نہ صرف بے روزگاری پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔مولانا اخضر حسین نے کہا کہ حضرت شاہ ہمدانؒ نے کشمیر میں تجارت کے جدید تصورات متعارف کروائے اور مقامی لوگوں کو کاروباری مہارتوں کی طرف راغب کیا، جس سے وادی میں ایک مضبوط معاشی ڈھانچہ تشکیل پایا۔ ان کے مطابق آج بھی اسی طرزِ فکر کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے حضرت شاہ ہمدانؒ کے عرس مبارک کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور اخلاقی ترقی کا مکمل نظام ہیں جن سے آج کی ریاستی پالیسیوں کو بھی رہنمائی مل سکتی ہے۔










