عوامی مسائل اور ترقیاتی مطالبات پیش کئے
سری نگر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد راناسے سول سیکرٹریٹ سری نگر میں متعدد اراکین اسمبلی ، عوامی وفود اور اَفراد نے ملاقات کی اور انہیں مختلف عوامی فلاحی مسائل ، ترقیاتی امور اور شعبہ جاتی مطالبات سے آگاہ کیا۔ ممبر قانون سا ز اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع اور رُکن اسمبلی حضرت بل سلمان ساگر نے حلقہ سے متعلق متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور اَپنے اَپنے حلقوں میں عوامی بنیادی ڈھانچے کی بہتری، واٹر سپلائی سکیموں میں توسیع، آبپاشی سہولیات اور دیگر ترقیاتی کاموں میں بہتری کے لئے وزیر سے مداخلت کی درخواست کی۔ دورانِ ملاقات اراکین اسمبلی نے جاری ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق مسائل کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے شہری سہولیات کو مضبوط بنانے، بنیادی ڈھانچے کی بہتر کے علاوہ آبپاشی کے نیٹ ورک کی نکاسی کے عمل کی جلد تکمیل کو اُجاگر کرنے سے متعلق کئی مطالبات بھی پیش کئے۔اراکین اسمبلی کے علاوہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد وفود اور اَفراد نے بھی وزیرموصوف سے ملاقات کی اور اَپنے مسائل و مطالبات پیش کئے۔جل جیون مشن کے ٹھیکیداروں کے ایک وفد نے مشن کے تحت جاری کاموں کی انجام دہی سے متعلق مسائل اور اَدائیگیوں و دیگر طریقۂ کار سے متعلق معاملات کے بروقت حل کا مطالبہ کیا تاکہ منصوبوں پر کام بلا رُکاوٹ جاری رہ سکے۔ وفد نے وزیر سے اپیل کی کہ وہ مشن کے تحت کئے جانے والے کاموں کی بلا تعطل پیش رفت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری مداخلت کریں۔محکمہ اری گیشن کے موسمی مزدوروں پر مشتمل ایک اور وفد نے اَپنے دیرینہ مسائل پیش کئے اور ان کے حل کی درخواست کی۔ وفد نے اَپنے مطالبات پر ہمدردانہ غور اور فلاحی اقدامات کی اپیل کی۔دیگر مختلف وفود اور اَفراد نے بھی پینے کے پانی کی فراہمی، آبپاشی سہولیات، عوامی بنیادی ڈھانچے اور دیگر مقامی مسائل سے متعلق امور وزیر موصوف کو گوش گزار کئے۔وزیرجل شکتی جاوید رانا نے تمام وفود کے مسائل بغور سُنا اورانہیں یقین دِلایا کہ ملاقاتوں کے دوران اٹھائے گئے تمام حقیقی مسائل اور مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر زیر غور لایا جائے گا۔ اُنہوں نے عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔جاوید رانا نے کہا کہ حکومت عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے اور ترقیاتی فوائد کو شفاف انداز میں معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وفود اور اَفراد کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل پر مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔










