فاروق سید صاحب مدیر’’ گل بوٹے‘‘ ممبئی

ادب ا طفا ل کا بے لوث خادم دنیا سے رخصت ہو گیا

مجیدعارف نظام آبادی

بچوں کے ادب کی دنیا ہمیشہ محبت، معصومیت، اخلاق اور خوابوں کی دنیا سمجھی جاتی ہے۔ اس دنیا کے معمار وہ ادیب ہوتے ہیں جو ننھے ذہنوں میں علم، کردار، تہذیب اور انسانیت کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ جب کوئی بچوں کا ادیب اچانک اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو صرف ایک فرد کا انتقال نہیں ہوتا بلکہ ایک پوری فکری اور ادبی دنیا سوگوار ہوجاتی ہے۔ ایسے ادیب اپنے قلم سے نسلوں کی تربیت کرتے ہیں، اس لیے ان کی وفات ایک قومی اور ادبی نقصان تصور کی جاتی ہے۔
نہایت افسوس ناک اور دل دوز خبر آئی ہے کہ ممتاز صحافی اور ادیب محترم فاروق سید صاحب ، ماہنامہ گل بوٹے(ممبئی) کے بانی و مدیر نے ابھی ابھی ممبئی کے ایک اسپتال میں آخری سانس لی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ادب أطفال کے بے باک اور بے لوث خادم، انتہائی مشفق ادیب، تقریباً تیس سال تک انھوں نے بچوں کے ادب پر کام کیا اور گل بوٹے کو بھی پابندی سے شائع کیا۔ بچوں کے ادب کے لیے ان کی جدائی انتہائی تکلیف دہ اور بڑے خسارے کا سبب ہے۔بلکہ پورے برصغیر میں اردو ادب و صحافت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ …
بچوں کے ادیب کی شخصیت عام ادیبوں سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجھتا ہے، ان کے احساسات، خوابوں اور تجسس کو الفاظ کا روپ دیتا ہے۔ وہ کہانیوں، نظموں اور دلچسپ واقعات کے ذریعے بچوں کو سچائی، امانت، محبت، ہمدردی اور محنت جیسے اعلیٰ اوصاف سکھاتا ہے۔ اس کے لکھے ہوئے کردار بچوں کے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اسی لیے جب ایسا ادیب اچانک دنیا چھوڑ جائے تو بچوں کے چہروں سے مسکراہٹیں ماند پڑ جاتی ہیں اور ادب کا ایک روشن باب بند ہوجاتا ہے۔
ان کے اچانک انتقال کی خبرنے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس خبر سے ادب أطفال میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ شاگرد، قارئین اور ادیب سب ہی افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی تحریروں، ملاقاتوں اور یادگار باتوں کو یاد کرکے اشکبار ہیں۔ خصوصاً وہ بچے جو ان کی کہانیوں سے متاثر ہوکر پڑھنے کی عادت اپناتے تھے، اس خبر کو سن کر غمگین ہیں۔
فاروق سید صاحب بڑا کارنامہ یہ کہ وہ اپنی ادارت میں شائع ہونے والے رسالہ ” گل بوٹے” کو بچوں کے لئے دلچسپ بنا کر پیش کرتے تھے۔ وہ مشکل باتوں کو آسان انداز میں پیش کرنے کے فن سے خوب واقف تھے۔بچے نہ صرف لطف اندوز ہوتے تھے بلکہ کھیل کھیل میں بہت کچھ سیکھ بھی جاتے تھے۔ ان کی کہانیوں میں تفریح کے ساتھ تربیت کا پہلو بھی شامل ہوتا تھا۔ ان کی تحریریں وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہیں گی۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی کتابیں نئی نسل کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔
فارق سید صاحب کا شمار ایسے ادباء میں ہوتا ہے جو معاشرے کی اخلاقی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو اچھا انسان بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے امن اور مایوسی کے بجائے امید کا پیغام ہوتا تھا۔ آج کے دور میں جب بچوں کی توجہ جدید ٹیکنالوجی اور غیر ضروری مصروفیات کی طرف بڑھ رہی ہے، بچوں کے ادیب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کا اچانک انتقال اس لیے بھی افسوسناک ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک ایسے معلم سے محروم ہوگیاہے جو خاموشی سے نسلوں کی اصلاح کررہا تھا۔
ہمیں چاہیے کہ ایسے ادیبوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ ان کی کتابوں کو محفوظ کریں، نئی نسل تک پہنچائیں اور ان کے افکار کو زندہ رکھیں۔ اسکولوں، کالجوں اور ادبی اداروں کو چاہیے کہ ان کے نام پر تقریبات، سیمینارز اور مطالعۂ کتب کے پروگرام منعقد کریں تاکہ بچوں میں کتاب دوستی اور ادب سے محبت پیدا ہو۔
فاروق سید صاحب کا اچانک انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن اس کے الفاظ، کردار اور تعلیمات ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ اس کا قلم آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوگا، اور یہی ایک عظیم ادیب کی حقیقی کامیابی ہوتی ہے۔
خالقِ حقیقی سے عجز و انکساری کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ انہیں غریق رحمت کرے ان کی سیئات کو حسنات میں مبدل کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
اس دکھ کی گھڑی میں احقراہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہے۔