محمد عرفات وانی
جموں و کشمیر کی وادیوں، قصبوں، دیہات اور پہاڑی علاقوں میں ہر صبح ایک خاموش مگر نہایت اہم منظر دہرایا جاتا ہے۔ ہزاروں طلبہ اپنے گھروں سے اس امید کے ساتھ نکلتے ہیں کہ شاید آج کا دن انہیں اُن خوابوں کے مزید قریب لے جائے گا جنہیں اُن کے والدین نے اپنی قربانیوں، دعاؤں اور محرومیوں سے سینچا ہے۔ یہ طلبہ اپنے بستوں میں صرف کتابیں اور نوٹس نہیں اٹھائے ہوتے بلکہ ان کے کندھوں پر پورے خاندان کی امیدیں، ایک بہتر مستقبل کی آرزو اور معاشرتی ترقی کا خواب بھی موجود ہوتا ہے مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں تعلیم کی جدوجہد اکثر کلاس روم سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جدوجہد ان بس اسٹاپوں سے شروع ہوتی ہے جہاں طلبہ گھنٹوں ٹرانسپورٹ کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں، ان سڑکوں سے جہاں سفر سہولت کے بجائے اذیت کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اُس ذہنی دباؤ سے جو روزانہ صرف تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے اخراجات جمع کرنے کے باعث اُن کے دل و دماغ پر مسلط رہتا ہے۔
جموں و کشمیر میں مفت عوامی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے جاری بحث کے دوران ایک بنیادی سوال نہایت سنجیدگی سے پوچھا جانا چاہیے کہ آخر اس سہولت کی سب سے زیادہ ضرورت کس طبقے کو ہے۔ اس سوال کا جواب نہ تو پیچیدہ ہے اور نہ ہی کسی سیاسی مصلحت کا محتاج۔ اگر اس خطے میں مفت یا رعایتی پبلک ٹرانسپورٹ پالیسی نافذ کی جاتی ہے تو اس کا اولین اور بنیادی حق طلبہ کو ملنا چاہیے کیونکہ معاشرے کا شاید ہی کوئی اور طبقہ موجودہ ٹرانسپورٹ بحران، مہنگائی اور ناقص سفری نظام سے اتنا براہ راست متاثر ہو جتنا طلبہ۔ تعلیم ایک قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور جب تعلیمی رسائی ہی مشکلات کا شکار ہو جائے تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
طلبہ مالی طور پر مکمل انحصار کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے پاس نہ مستقل آمدنی ہوتی ہے نہ روزگار اور نہ ہی ایسا معاشی اختیار کہ وہ روزانہ بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات کو باآسانی برداشت کر سکیں۔ ٹرانسپورٹ پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ دراصل ایسے گھریلو بجٹ سے نکلتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی، تعلیمی اخراجات، بجلی کے بلوں، طبی ضروریات اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے خرچوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ حالیہ کرایہ اضافوں نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے خصوصاً اُن غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے جو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے اپنی بنیادی ضروریات تک قربان کر رہے ہیں۔ آج جموں و کشمیر میں بے شمار والدین ایسے ہیں جو اپنی دواؤں، کپڑوں اور گھریلو آسائشوں پر سمجھوتہ کر لیتے ہیں مگر اپنے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک مزدور، کسان، ریڑھی فروش یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے شخص کے لیے اپنے بچے کی تعلیم صرف ایک خواب نہیں بلکہ مسلسل معاشی جدوجہد کا نام بن چکی ہے۔ کئی گھروں میں تعلیمی اخراجات کے بعد سب سے بڑا بوجھ ٹرانسپورٹ کا ہوتا ہے۔ بعض خاندانوں کے دو یا تین بچے مختلف کالجوں اور اسکولوں میں زیر تعلیم ہوتے ہے جس کے باعث روزانہ سفری اخراجات ایک سنگین معاشی بحران کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب والدین کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ گھر کا راشن خریدا جائے یا بچے کے سفر کے لیے کرایہ جمع کیا جائے۔ جب تعلیم تک رسائی کسی خاندان کی مالی استطاعت سے مشروط ہو جائے تو تعلیم آہستہ آہستہ بنیادی حق کے بجائے صرف خوشحال طبقے کی سہولت بن جاتی ہے اور یہی کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
جموں و کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کمزور اور غیر متوازن ڈھانچہ اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر دیہی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں قابل اعتماد ٹرانسپورٹ کی شدید قلت ہے۔ طلبہ مجبوراً بھیڑ بھاڑ والی بسوں، سومو گاڑیوں، منی بسوں اور آٹو رکشوں میں سفر کرتے ہیں جو اکثر غیر منظم اوقات پر چلتے ہیں اور بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ کئی طلبہ روزانہ گھنٹوں کھڑے ہو کر سفر کرتے ہیں جبکہ بعض کو طویل وقت سڑکوں پر انتظار میں گزارنا پڑتا ہے۔ سردیوں میں برفباری، بارش اور شدید سردی یہ مشکلات کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ صبح سویرے دھند، برف اور یخ بستہ ہواؤں کے درمیان سفر کرنا نہ صرف جسمانی اذیت بنتا ہے بلکہ طلبہ کی ذہنی کیفیت اور تعلیمی توجہ کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔
ان سفری مشکلات کے براہ راست اثرات طلبہ کی تعلیم پر پڑتے ہیں۔ مسلسل تاخیر، غیر حاضری، جسمانی تھکن اور ذہنی دباؤ ان کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ کئی طلبہ کلاس روم میں صرف اس وجہ سے پوری توجہ نہیں دے پاتے کیونکہ ان کا ذہن صبح کے طویل اور تھکا دینے والے سفر سے بوجھل ہوتا ہے۔ سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بعض طلبہ محض ٹرانسپورٹ اخراجات اور ناقص سفری سہولیات کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ ان کی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ معاشی مجبوریوں اور پالیسی ناکامیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب کوئی طالب علم صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دے کہ وہ تعلیمی ادارے تک پہنچنے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا تو دراصل معاشرہ اپنا ایک مستقبل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، منتظم، سائنسدان، محقق یا دانشور کھو دیتا ہے۔
یہ بحران ان طلبہ کے لیے اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے جو دیہات یا دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں نہ صرف فاصلہ زیادہ ہوتا ہے بلکہ سفری سہولیات بھی محدود اور غیر یقینی ہوتی ہیں۔ نیٹ، جے ای ای، یو پی ایس سی، جے کے پی ایس سی اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے ہزاروں طلبہ روزانہ کوچنگ سینٹروں، لائبریریوں اور تعلیمی مراکز تک پہنچنے کے لیے دشوار ترین حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ مہنگی اور غیر یقینی ٹرانسپورٹ ان کی تعلیمی تیاری میں مسلسل رکاوٹ بنتی ہے۔ نتیجتاً بے شمار ذہین اور باصلاحیت طلبہ صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ تعلیم تک پہنچنے کا راستہ ہی اُن کے لیے ناقابل برداشت بنا دیا گیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے نوجوانوں کے لیے تعلیمی سفر آسان نہ بنا سکے وہ ترقی اور مساوات کے دعوے حقیقت میں کبھی پورے نہیں کر سکتا۔
اس مسئلے کا ایک نہایت حساس اور تشویشناک پہلو طالبات کے تحفظ اور وقار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ میں ہراسانی، بدتمیزی، غیر اخلاقی رویوں اور نامناسب جملوں کی شکایات مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی مرتبہ جب لڑکیاں ان رویوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں تو انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف ٹرانسپورٹ نظام کی ناکامی نہیں بلکہ خواتین کے محفوظ تعلیمی سفر کے حق کے حوالے سے ہماری اجتماعی بے حسی کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ اگر حکومت واقعی خواتین کی تعلیم، خودمختاری اور باوقار شرکت کی خواہاں ہے تو اسے طالبات کے لیے محفوظ اور باقاعدہ سفری سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ خصوصی طلبہ بسیں، نگرانی کا مؤثر نظام، خواتین عملے کی تعیناتی اور سخت قانونی کارروائیاں اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
جموں و کشمیر میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کسی بھی پالیسی کو دیگر ریاستوں کی محض نقل بننے کے بجائے مقامی حقائق، زمینی مسائل اور محدود وسائل کو سامنے رکھ کر ترتیب دینا ہوگا۔ اگرچہ ہندوستان کی بعض ریاستوں نے مختلف طبقات کے لیے مفت سفری اسکیمیں متعارف کرائی ہیں لیکن جموں و کشمیر کا ٹرانسپورٹ نظام اب بھی کمزور، مالی دباؤ کا شکار اور انتظامی اعتبار سے محدود ہے۔ سرکاری بسوں کی تعداد ناکافی ہے۔ کئی روٹس غیر منظم ہیں، اور ناقص دیکھ بھال کے باعث متعدد گاڑیاں غیر فعال رہتی ہیں۔ ایسے میں اگر وسائل کی ترجیح طے نہ کی گئی تو پالیسی اپنی اصل افادیت کھو سکتی ہے۔
خواتین کے لیے مفت سفری سہولت کو ایک فلاحی اور ترقی پسند اقدام کے طور پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے تاہم اس بحث کا ایک اہم پہلو اب بھی سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ موجودہ طرز عمل کے تحت تمام خواتین بلا امتیاز اس سہولت سے فائدہ حاصل کرتی ہیں۔ خواہ اُن کی معاشی حالت، پیشہ ورانہ حیثیت یا مالی استطاعت کچھ بھی ہو۔ نتیجتاً بعض ایسے افراد بھی مفت سفری سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو مکمل طور پر اپنے سفری اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بحث کا مقصد ہرگز خواتین، خصوصاً معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین، کی حمایت کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ یہ سوال اٹھانا ہے کہ محدود حکومتی وسائل کی موجودگی میں کیا یکساں مفت سفری سہولت واقعی وسیع تر عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
جموں و کشمیر جیسے خطے میں جہاں ٹرانسپورٹ کا نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے وہاں فلاحی پالیسیوں میں معاشی ترجیح، ضرورت اور سماجی انصاف کے اصولوں کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے۔ جب غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ روزانہ اپنی تعلیمی بقا کے لیے کرایہ جمع کرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہوں تو محدود وسائل کی تقسیم زیادہ متوازن، حساس اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی متقاضی بن جاتی ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جو حقیقی مستحق طبقات کو ترجیح دے، نہ صرف زیادہ مؤثر ثابت ہوگی بلکہ حکومت کو ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔
اگر حکومت واقعی تعلیمی ترقی اور نوجوانوں کے مستقبل کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے تو طلبہ پر مبنی ٹرانسپورٹ پالیسی فوری طور پر متعارف کرائی جانی چاہیے۔
تعلیمی شناختی کارڈ سے منسلک مفت یا رعایتی سفری پاس شفافیت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اسکول اور کالج اوقات میں خصوصی بسیں چلائی جا سکتی ہیں تاکہ طلبہ کو بروقت، محفوظ اور باوقار سفری سہولت میسر آ سکے۔ اس کے ساتھ سخت نگرانی کا نظام قائم کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ زائد کرایہ وصولی، غیر ضروری بھیڑ، خطرناک ڈرائیونگ اور بدسلوکی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ دیہی علاقوں کے لیے مخصوص روٹس، طالبات کے لیے علیحدہ سہولیات اور سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ مربوط ٹرانسپورٹ منصوبے صورتحال میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے عوام کو حکومت اور انتظامیہ سے یہ توقعات وابستہ ہیں کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کو صرف بیانات اور وعدوں تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ عملی اور دیرپا اقدامات کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کوئی معمولی انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ تعلیمی مساوات، سماجی ترقی، خواتین کے وقار اور مجموعی معاشرتی استحکام سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جدید کلاس رومز، اسکالرشپس اور تعلیمی اصلاحات اُس وقت اپنی افادیت کھو دیتی ہیں جب طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں تک پہنچنا ہی ایک روزانہ کا معرکہ بن جائے۔ اگر کسی ریاست کا نوجوان ذہنی دباؤ، معاشی مجبوری اور سفری اذیت کے درمیان تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہو تو وہ معاشرہ اپنی سب سے قیمتی قوت کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
آخر میں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ کہی جانی چاہیے کہ اگر جموں و کشمیر میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی پالیسی نافذ کی جاتی ہے تو اس کے اولین اور بنیادی مستحق طلبہ ہونے چاہئیں۔ یہ صرف ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی، تعلیمی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ کسی بھی طالب علم کو صرف اس وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ جو معاشرہ اپنے طلبہ کا سفر آسان نہیں بناتا وہ دراصل اپنی ترقی کی راہوں کو خود محدود کر دیتا ہے۔ اگر جموں و کشمیر واقعی ایک تعلیم یافتہ، باشعور، خودمختار اور ترقی یافتہ مستقبل کا خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے تعلیم تک پہنچنے کے سفر کو ہر طالب علم کے لیے محفوظ، آسان، باوقار اور قابل برداشت بنانا ہوگا کیونکہ قوموں کے مستقبل کا راستہ اُنہی سڑکوں سے گزرتا ہے جن پر اُن کے طلبہ سفر کرتے ہیں۔










