قیمتی ڈوگرہ دور کے نوادرات کی جانچ اور حوالگی کا عمل ہفتے میں تین دن جاری رہے گا
سرینگر// یو این ایس//حکومت نے کئی ماہ کی تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کے بعد آخرکار مبارک منڈی کمپلیکس میں موجود تاریخی توشہ خانہ کے قیمتی ڈوگرہ دور کے نوادرات کی تصدیق اور حوالگی کے رکے ہوئے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ افسران اور ماہرین کیلئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برسوں پر محیط اس حساس عمل کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق محکمہ مہمان نوازی و پروٹوکول کی جانب سے جاری ایک سرکولر میں واضح کیا گیا ہے کہ متعدد بار ہدایات جاری کئے جانے کے باوجود توشہ خانہ (سنگل لاک) کی حوالگی اور وصولی کے عمل میں شامل متعلقہ افسران، بالخصوص ماہرین، نے اپنی ذمہ داریاں وقت پر انجام نہیں دیں جس کے باعث پورا عمل طویل تعطل کا شکار ہوگیا۔یو این ایس کے مطابقسرکولر میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی ‘‘غیر سنجیدہ اور لاپرواہ طرزِ عمل’’ کے باعث نہ صرف عمل میں غیر معمولی تاخیر ہوئی بلکہ انتظامی سطح پر بھی کئی مشکلات پیدا ہوئیں۔محکمہ نے تمام متعلقہ اداروں اور افسران کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے کو انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا تصور کرتے ہوئے مکمل تعاون فراہم کیا جائے کیونکہ اس پورے عمل کی نگرانی ہائی کورٹ اور اعلیٰ حکام کی جانب سے مسلسل کی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس عمل کو تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔سرکولر کے مطابق اب توشہ خانہ کی حوالگی اور تصدیقی عمل ہر ہفتے پیر، بدھ اور جمعرات کو انجام دیا جائے گا اور یہ سلسلہ اْس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام نوادرات کی مکمل جانچ، تصدیق اور حوالگی کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔یو این ایس کے مطابق حکومت نے محکمہ ثقافت، ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے نامزد افسران اور ماہرین کی مستقل موجودگی یقینی بنائیں تاکہ عمل شفاف، منظم اور وقت مقررہ کے اندر مکمل ہو سکے۔سرکولر میں سخت لہجے میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی افسر یا اہلکار کی جانب سے غفلت، لاپرواہی یا ہدایات پر عمل درآمد میں ناکامی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ توشہ خانہ میں موجود شاہی خزانوں کی سائنسی جانچ اور انوینٹری کا عمل کئی ماہ سے تقریباً معطل پڑا تھا کیونکہ اس کام سے وابستہ ماہرین نے اختیار کردہ طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہر نوادرات کی تفصیلی پیمائش اور تکنیکی جانچ کو حوالگی سے پہلے مکمل کرنا ایک نہایت سست اور غیر عملی عمل ہے، خاص طور پر اس صورتحال میں جب ہزاروں نوادرات کی تصدیق باقی ہو۔توشہ خانہ، جو کئی دہائیوں تک بند رہا، کو گزشتہ برس 28 مئی کو دوبارہ کھولا گیا تھا تاکہ اس میں موجود قیمتی اشیائکی فہرست سازی اور تصدیق کا عمل شروع کیا جا سکے۔ اس موقع پر محکمہ مہمان نوازی و پروٹوکول اور ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے افسران موجود تھے۔یو این ایس کے مطابق یہ تاریخی توشہ خانہ کبھی جموں و کشمیر کے سابق ڈوگرہ حکمرانوں کے قیمتی خزانوں کا مرکز تھا جہاں سونے اور چاندی کے زیورات، شاہی اسلحہ، نایاب نوادرات اور دیگر قیمتی اشیاء محفوظ رکھی گئی تھیں۔تاہم کئی برس قبل پیش آئے تباہ کن آتشزدگی کے واقعے کے بعد توشہ خانہ کو غیر محفوظ قرار دیا گیا جس کے بعد زیادہ تر قیمتی سونے اور چاندی کے زیورات کو حفاظتی نقطہ نظر سے سول سیکریٹریٹ جموں کے ایک مضبوط کمرے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔سرکاری حلقوں اور ورثہ تحفظ سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ توشہ خانہ کی تصدیق اور سائنسی انوینٹری کا بروقت مکمل ہونا نہ صرف تاریخی ورثے کے تحفظ کیلئے ضروری ہے بلکہ ان قیمتی نوادرات کی مناسب دیکھ بھال اور مستقبل میں عوامی نمائش کیلئے بھی اہم قدم ثابت ہوگ










