سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ فوجداری قانون کو کسی فرد کے خلاف انتقام یا ہراسانی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے سابق رنجی کرکٹر ماجد یعقوب ڈارکے خلاف مبینہ تاریخِ پیدائش میں ردوبدل کے معاملے میں درج ایف آئی آر اور تمام متعلقہ کارروائیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔یہ فیصلہ جسٹس وسیم صادق نرگال نے اس عرضی پر سنایا جس میں کرائم برانچ کشمیر کی جانب سے درج ایف آئی آر، اصل شکایت، ابتدائی جانچ اور اکنامک آفنسز ونگ کی تمام کارروائیوں کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔یو این ایس کے مطابق واضح رہے کہ 12 ستمبر 2020 کو جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے اْس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے ایک شکایت درج کرائی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ماجد ڈار نے رنجی ٹرافی ٹورنامنٹس میں رجسٹریشن کے دوران اپنی اصل تاریخ پیدائش 30 دسمبر 1970 کے بجائے 30 دسمبر 1978 ظاہر کی اور اس طرح دھوکہ دہی سے رجسٹریشن اور مالی فوائد حاصل کئے۔شکایت کے بعد کرائم برانچ کشمیر نے ابتدائی تحقیقات شروع کیں اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، اکنامک آفنسز ونگ کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔تاہم تحقیقات کے دوران جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن نے اندرونی سطح پر معاملے کی جانچ کی اور پایا کہ ماجد ڈار کے خلاف الزامات ناقابلِ اعتبار اور بے بنیاد ہیں۔ اس کے بعد 16 مارچ 2022 کو ایسوسی ایشن نے اپنی شکایت واپس لیتے ہوئے کرائم برانچ کو مطلع کیا کہ الزامات میں کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ جے کے سی اے کی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اْس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے درج شکایت بادی النظر میں ذاتی دشمنی اور ماجد ڈار کو نشانہ بنانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے، خاص طور پر جب ان کی تاریخ پیدائش کو متعلقہ وقت میں باقاعدہ طور تسلیم کیا جا چکا تھا۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جے کے سی اے نے بعد ازاں بھی ماجد ڈار کو سینئر ٹورنامنٹس میں نمائندگی کا موقع دیا اور ان کی کارکردگی سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسوسی ایشن خود ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو درست نہیں مانتی تھی۔یو این ایس کے مطابق عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بریگیڈیئر انیل گپتانے رجسٹرار جوڈیشل سرینگر کے سامنے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ جے کے سی اے اب اس مقدمے کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی اور ایف آئی آر بند کرنے کی خواہاں ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ رنجی ٹرافی میں شرکت کیلئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، اس لئے مبینہ تاریخ پیدائش کا معاملہ غیر متعلق تھا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ماجد ڈار کو ملنے والی رقم صرف ان میچوں کی بنیاد پر تھی جو انہوں نے جموں و کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے کھیلے، لہٰذا یہ ان کا جائز حق تھا۔ہائی کورٹ نے اس حقیقت کا بھی نوٹس لیا کہ معاملے میں نہ تو عوامی فنڈز کا کوئی سوال شامل تھا اور نہ ہی مالی خرد برد کا کوئی الزام سامنے آیا۔ عدالت کے مطابق پوری کارروائی بادی النظر میں ذاتی یا ادارہ جاتی اختلافات کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔جسٹس وسیم صادق نرگل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب شکایت کنندہ ادارہ خود اندرونی تحقیقات کے بعد الزامات کو بے بنیاد، غیر مصدقہ اور سرکاری ریکارڈ سے غیر ثابت شدہ قرار دے چکا ہے تو فوجداری کارروائی جاری رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا، ‘‘فوجداری قانون کو انتقام یا ذاتی و ادارہ جاتی رقابتوں کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔’’ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں، جن میں ‘‘اسٹیٹ آف ہریانہ بنام بھجن لال’’ اور ‘‘محمد واجد بنام ریاست اتر پردیش’’ شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ بدنیتی، انتقامی جذبے یا ناجائز مقاصد پر مبنی مقدمات کو منسوخ کرے۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ الزامات کی بنیادی بنیاد ہی ختم ہو چکی ہے، اس لئے مقدمہ جاری رکھنا قانون کے عمل کا ناجائز استعمال اور درخواست گزار کو غیر ضروری ہراسانی کے مترادف ہوگا۔اسی بنیاد پر عدالت نے ایف آئی آر نمبر 26/2023 مورخہ 25 مئی 2023، شکایت نمبر JKCA/CEO/20/230، ابتدائی جانچ نمبر 40/2021 اور اس سے جڑی تمام کارروائیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔










