جموں و کشمیر میں الیکٹرک وہیکل پالیسی3 برسوں سے زیر التوا

جموں و کشمیر میں الیکٹرک وہیکل پالیسی3 برسوں سے زیر التوا

چارجنگ اسٹیشنوں کی تعداد پر ابہام، تربیت یافتہ عملے کی کمی سے نظام غیر یقینی

سرینگر// یو این ایس//ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم جموں و کشمیر میں اس شعبے کی پیش رفت اب بھی طویل سرکاری مشاورتوں اور غیر یقینی فیصلوں کی نذر ہے۔ ذرائع کے مطابق یونین ٹیریٹری کی الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی تین برس گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہیں کر سکی، جس کے باعث نہ تو چارجنگ انفراسٹرکچر پر کوئی واضح حکمت عملی سامنے آئی ہے اور نہ ہی گاڑیوں کی خرابی کی صورت میں امدادی نظام قائم کیا جا سکا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اکتوبر 2022 میں حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں مختلف محکموں کے سینئر افسران شامل تھے۔ اس کمیٹی کو جموں و کشمیر میں الیکٹرک موبیلٹی کو فروغ دینے کے لیے سفارشات تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کئی ماہ کی مشاورت کے بعد کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں ای وی خریداری کے لیے مراعات، چارجنگ اسٹیشنوں کے قیام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تشکیل جیسے اہم نکات شامل تھے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ میں ضلع، سب ڈویژن اور تحصیل سطح پر چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی شاہراہوں پر ہر 25 کلومیٹر کے فاصلے پر فاسٹ چارجنگ سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کے مطابق ایک فاسٹ چارجنگ اسٹیشن کے قیام پر تقریباً 10 لاکھ روپے لاگت آئے گی، جس کے بغیر بڑے پیمانے پر ای وی اپنانا ممکن نہیں۔تاہم نومبر 2025 میں حکومت نے ایک اور کمیٹی تشکیل دی، جسے پالیسی مسودے پر نظرثانی اور نئے قومی رہنما خطوط کی روشنی میں ترامیم تجویز کرنے کا کام سونپا گیا۔ اس کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور معاملہ مزید غور و خوض کے لیے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ محکمہ کے تحت قائم سینٹر فار انوویشن اینڈ ٹرانسفارمیشن اِن گورننس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سب سے بنیادی سوال—یعنی پورے یونین ٹیریٹری میں کتنے چارجنگ اسٹیشنز درکار ہوں گے—اب تک حل طلب ہے۔ اس کے ساتھ ہی تربیت یافتہ تکنیکی عملے کی شدید کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ فی الوقت نہ تو گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود ہے اور نہ ہی دور دراز علاقوں یا شاہراہوں پر خرابی کی صورت میں فوری مدد فراہم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریقہ کار ہے۔ذرائع نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں اگر کوئی الیکٹرک گاڑی راستے میں بند ہو جائے تو مسافروں کو گھنٹوں مدد کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف حفاظتی بلکہ لاجسٹک مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ملک کی دیگر ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے برعکس، جہاں ای وی پالیسیوں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور واضح اہداف، مراعات اور سروس نیٹ ورک قائم کیے جا رہے ہیں، جموں و کشمیر میں یہ عمل اب بھی بیوروکریٹک مباحث تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق پالیسی میں تاخیر نجی سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی کو متاثر کر رہی ہے۔ واضح اہداف، ویابیلیٹی گیپ فنڈنگ اور آپریشنل گائیڈ لائنز کے بغیر سرمایہ کار اس شعبے میں سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر جیسے جغرافیائی طور پر پیچیدہ خطے میں۔مزید، بین المحکمہ جاتی ہم آہنگی کی کمی بھی پیش رفت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ مختلف ادارے اس عمل میں شامل ہونے کے باوجود کوئی ایک بااختیار نوڈل ایجنسی موجود نہیں جو اس پالیسی کو وقتبند انداز میں نافذ کرے۔ماحولیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ ای وی نظام کے نفاذ میں تاخیر سے گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں۔ ان کے مطابق پائیدار ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک موبیلٹی ناگزیر ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی کے باعث یہ خواب فی الحال ادھورا دکھائی دیتا ہے۔ذرائع نے زور دیا کہ اگر فوری اور ٹھوس فیصلے نہ کیے گئے تو جموں و کشمیر میں الیکٹرک موبیلٹی کا منصوبہ محض کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔