modi

وزیر اعظم نریندر مودی نے دیا ہندوستان،نیوزی لینڈ ایف ٹی اے کو تاریخی معاہدہ قرار

20 ارب ڈالر سرمایہ کاری سے معیشت میں بڑی تبدیلی کی امید،ٹیکنالوجی اور اختراع میں تیز رفتار تعاون کا امکان// وزیر اعظم

سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے گا بلکہ ترقیاتی شراکت داری میں ایک نئے دور کا آغاز بھی کرے گا۔یو این ایس کے مطابق اپنے تفصیلی بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ گہرے اعتماد، مشترکہ اقدار اور طویل المدتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایف ٹی اے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط مزید مستحکم ہوں گے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی جہت ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس پیش رفت سے کسانوں، نوجوانوں، خواتین، مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز)، کاریگروں، اسٹارٹ اپس، طلباء اور اختراع کاروں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ معاہدہ نہ صرف برآمدات اور درآمدات میں توازن پیدا کرے گا بلکہ ٹیکنالوجی کے تبادلے، مہارتوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی جانب سے 20 بلین ڈالر سرمایہ کاری کے عزم کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے زراعت، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں نئی توانائی پیدا ہوگی۔وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ایف ٹی اے عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا اور اسے ایک قابل اعتماد تجارتی شراکت دار کے طور پر پیش کرے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئی منڈیوں تک رسائی بھی آسان ہوگی، جس سے طویل مدتی اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ادھر سکم کے دارالحکومت گنگ ٹاک میں ریاست کے قیام کی گولڈن جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شمال مشرقی خطے کے لیے حکومت کے وسیع ترقیاتی وڑن کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس خطے کو بھارت کی ‘‘اشٹ لکشمی’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ قدرتی وسائل، ثقافتی تنوع اور اقتصادی امکانات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کے تحت خطے کو بین الاقوامی تجارت اور رابطے کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ’ایکٹ فاسٹ‘ حکمت عملی کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق شمال مشرقی ریاستیں مستقبل میں بھارت کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔سکم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاحت ریاست کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ویسٹ بنگال کے باگڈوگرا سے سکم تک ایکسپریس وے، گنگٹوک میں رنگ روڈ، ناتھولا تک بہتر سڑک رابطے، اور روپ وے و اسکائی وے جیسے منصوبے شامل ہیں، جن سے سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔وزیر اعظم نے سکم کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست ماحولیاتی تحفظ کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ایکو ویلنیس ٹورازم، آرگینک فارمنگ اور ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہزاروں ہوم اسٹیز کے قیام سے مقامی معیشت کو تقویت دی جا رہی ہے۔نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ نوجوان ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران نوجوانوں کے ساتھ فٹبال کھیلنے کے تجربے کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا نوجوان طبقہ ترقی اور اختراع کا اصل محرک ہے۔وزیر اعظم نے صحت کے شعبے میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت معیاری اور سستی صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ماضی میں اس شعبے کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق ہندوستان-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے اور شمال مشرقی خطے کے لیے اعلان کردہ ترقیاتی اقدامات ایک وسیع اقتصادی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عالمی سطح پر تجارتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر پسماندہ علاقوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان منصوبوں پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ اقدامات بھارت کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ مواقع ضائع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔