مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو 3,566 کروڑ روپے کے پی ایم جی ایس وائی ۔IV پیکیج کی منظوری نامہ حوالے کیا

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو 3,566 کروڑ روپے کے پی ایم جی ایس وائی ۔IV پیکیج کی منظوری نامہ حوالے کیا

ایس کے آئی سی سی میں پی ایم جی ایس وائی۔IV (بیچ دوم)کی آغازی تقریب سے خطاب

سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شیرکشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں منعقدہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی)۔IV (بیچ دوم) کی آغاز ی تقریب سے خطاب کیاجو جموں و کشمیر میں دیہی رابطوں اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اِس پروگرام کا باقاعدہ آغاز مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی، زراعت اور بہبود کساناں شیوراج سنگھ چوہان نے کیا۔مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے ایس کے آئی سی سی میں ایک بڑے اِجتماع کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کو پی ایم جی ایس وائی۔IV (بیچ دوم) کے تحت 3,566 کروڑ روپے کے پیکیج کا منظوری نامہ حوالے کیا۔اس پیکیج کے تحت 363 بستیوں کو 330 سڑکوں کے ذریعے جوڑا جائے گا جو تقریباً 1,600 کلومیٹر پر محیط ہوں گی، اس سے رَسائی بہتر ہوگی اور جامع ترقی کو فروغ ملے گا۔وزیراعلیٰ نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر کا والہانہ خیرمقدم کیا اور پروجیکٹوں کی منظوری پر اُن کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے انہیں جموں و کشمیر کا سچا دوست اور خیرخواہ قرار دیا۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یہ منصوبے مرکزی حکومت کی جانب سے منظور شدہ ہیں، جموں و کشمیر اِنتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ کام مقررہ وقت میں تیز، مؤثر اور اعلی معیار کے ساتھ مکمل ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’میں یقین دِلاتا ہوں کہ اس پیکیج پر جلد ہی کام شروع ہو جائے گا اور جموں و کشمیر میں دیہی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لئے ان کی مسلسل تعاون کے لئے وزیر کا شکریہ اَدا کرتا ہوں۔‘‘اُنہوں نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلیگ شپ سکیموں کے فوائد حقیقی استفادہ کنندگان تک بروقت پہنچائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سڑک رابطے کے تبدیلی کے اثرات کواُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں عوام کی زندگی کی شہ رگ ہیں جو صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی کو بہتر بناتی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں دیہی علاقوں کے لوگوں کو مناسب رابطے کی عدم موجودگی کے باعث طویل فاصلے طے کرنے پڑتے تھے۔اُنہوں نے یقین دِلایا کہ حکومت جموں و کشمیر کے ہر باقی ماندہ گاؤں اور بستی کو سڑک رابطے سے جوڑنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔وزیراعلیٰ نے قومی دیہی روزگار مشن (این آر ایل ایم) کے رول کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کو سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے ذریعے بااِختیار بنانے میں اہم ستون ہے۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ’’ لکھپتی دیدیاں‘‘ مستقبل میں مزید ترقی کرتے ہوئے’’کروڑپتی دیدیاں‘‘بنیں گی جو مسلسل معاونت، تربیت اور اِقتصادی مواقع کے ذریعے ممکن ہوگا۔
عمر عبداللہ نے اپنے وسیع ترویژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایک خوشحال اور ترقی یافتہ جموں و کشمیر (’وِکست جموں کشمیر‘) کی تعمیر کے لئے پُرعزم ہے جو قومی ہدف’وِکست بھارت‘کے ہم آہنگ ہو تاکہ سب کے لئے جامع ترقی اور خوشحالی یقینی بنائی جا سکے۔مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اَپنے خطاب میں کہا کہ وہ کشمیر میں اَمن اور ترقی کا پیغام لے کر آئے ہیں اور اُنہوں نے حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کے متعدد دوروں کو یاد کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اہم پروگرام کے لئے سری نگر کا انتخاب کیا تاکہ پی ایم جی ایس وائی۔IV (بیچ دوم) کے 3,566 کروڑ روپے کے پہلے منظوری خط کو جموں و کشمیر کے حوالے کیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس پیکیج کے ساتھ ان کی وزارت نے ایک برس میں 7,790 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے ہیں۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے تحت پورے ملک کے لئے 4,568 کروڑ روپے کی ماںکی منظوری بھی جاری کی جس میں جموں و کشمیر کے لئے 40.90 کروڑ روپے شامل ہیں۔مرکزی وزیرنے کہا کہ وہ جلد ’’کلین پلانٹ پروگرام‘‘شروع کریں گے تاکہ جموں و کشمیر کے کسانوں کو بیماریوں سے پاک اور مقامی طور پر تیار شدہ پودے فراہم کئے جا سکیں۔ اُنہوں نے کسانوں کو کثیر فصل مربوط کاشتکاری اَپنانے کی بھی ترغیب دی جس کے لئے وزارت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر برائے دیہی ترقی جاوید احمد ڈار، ممبران پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان، غلام علی کھٹانہ، گروندر سنگھ اوبرائے، ست شرما، قائد حزب اِختلاف سنیل کمار شرما، متعدد اَراکین اسمبلی، مرکزی حکومت کے سیکرٹری دیہی ترقی روہت کنسل، ایڈیشنل چیف سیکرٹری آر اینڈ بی انیل کمار سنگھ، سیکرٹری آر ڈی ڈی محمد اعجازاور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔