انیل امبانی کو بینک فراڈ کارروائی میں سپریم کورٹ سے راحت نہیں

انیل امبانی کو بینک فراڈ کارروائی میں سپریم کورٹ سے راحت نہیں

نئی دہلی/ایجنسیز// سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز بمبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا، جس میں انیل امبانی کے خلاف بینک قرض فراڈ کے زمرے میں کارروائی آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی تھی۔یہ کارروائی بینکوں کے ایک کنسورٹیم کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے 23 فروری کو سنگل جج کے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا جس میں دسمبر 2025 میں اس عمل پر روک لگا دی گئی تھی۔یہ کارروائی بینکوں کے ایک کنسورٹیم کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے 23 فروری کو سنگل جج کے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا جس میں دسمبر 2025 میں اس عمل پر روک لگا دی گئی تھی۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے انیل امبانی کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا جس میں انہوں نے بینک آف بڑودہ، انڈین اوورسیز بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک کے ساتھ معاملہ طے کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ عدالت نے سماعت کو تیز کرنے کی ہدایت بھی دی اور کہا کہ ملزم قانون کے تحت دستیاب ذرائع اختیار کر سکتے ہیں۔قرض دینے والے بینکوں کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے امبانی کے سمجھوتے سے متعلق بیان کو ریکارڈ میں لینے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اثر دیگر زیر التوا تحقیقات اور کارروائیوں پر پڑ سکتا ہے۔امبانی کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل، شیام دیوان اور نریندر ہڈا نے پیروی کی۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ سنگل جج کی طرف سے دی گئی عبوری راحت کو ڈویڑن بنچ کے ذریعے ختم کرنا مناسب نہیں تھا۔