modi

اپوزیشن نے بڑی غلطی کی اور اب انہیں خواتین کو جواب دینا ہوگا

اپوزیشن نے ملک کی خواتین کو مایوس کیا ،اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے//وزیراعظم نریندر مودی

سرینگر// یو این ایس//وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین ریزرویشن بل کی پارلیمنٹ میں ناکامی پر اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن نے ایک بڑی غلطی کی ہے اور اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے دوران نریندر مودی نے کہا کہ ‘‘اپوزیشن نے ملک کی خواتین کو مایوس کیا ہے، اور اب انہیں خواتین کو جواب دینا ہوگا۔ یہ پیغام ہر شخص اور ہر گاؤں تک پہنچنا چاہیے۔واضح رہے کہ آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کرنے کی تجویز تھی، لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ بل کے حق میں 298 ووٹ پڑے جبکہ 230 ارکان نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد یہ اہم قانون سازی ناکام ہو گئی۔یو این ایس کے مطابق حکومت نے اس بل کو خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا تھا، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ حد بندی کے بعد جنوبی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیا۔لوک سبھا میں بحث کے دوران بھی نریندر مودی نے ارکان سے اپیل کی تھی کہ وہ اس معاملے کو سیاسی چشمے سے نہ دیکھیں بلکہ قومی مفاد میں فیصلہ کریں۔ انہوں نے ذاتی یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ حد بندی کے بعد کسی بھی ریاست، خاص طور پر جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور ان کی نمائندگی برقرار رہے گی یا اس میں معمولی اضافہ ہوگا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی پارلیمنٹ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حد بندی کے بعد نشستوں کی مجموعی تعداد 543 سے بڑھ کر 816 ہو جائے گی، اور تمام ریاستوں کا تناسب متوازن رکھا جائے گا۔ادھر اپوزیشن کی جانب سے راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کے معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور حد بندی کے ذریعے انتخابی نقشہ اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ پریانکا گاندھی واڈرا نے بل کی ناکامی کو اپوزیشن اتحاد کی کامیابی قرار دیا۔دوسری جانب مرکزی وزیر کیرن رجیجو نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کو روکنا ‘‘تاریخی غلطی’’ ہے اور اس کے لیے اپوزیشن کو ملک بھر کی خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اسے ‘‘کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک ایسا سیاہ داغ’’ قرار دیا جسے کبھی مٹایا نہیں جا سکے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی آنے والے دنوں میں ایک بڑا سیاسی موضوع بن سکتی ہے، خاص طور پر 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں، جہاں خواتین ووٹرز کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے، اور مستقبل میں اس سمت میں مزید کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔