hajj_kashmir_2026_dooran

کشمیر سے 431 عازمینِ حج کا پہلا روح پرور قافلہ حجاز مقدس روانہ

3 خصوصی پروازوں کے ذریعے سعودی عرب روانہ، جموں و کشمیر سے امسال4700 فراد سعادتِ حج حاصل کریں گے

سرینگر// یو این ایس//وادی کشمیر سے حج 2026 کے روحانی سفر کا باقاعدہ آغاز ہفتہ کی صبح اس وقت ہوا جب حج ہاؤس بمنہ سے عازمینِ حج کا پہلا قافلہ انتہائی رقت آمیز مناظر کے درمیان سعودی عرب کے لیے روانہ ہوا۔ اس موقع پر عقیدت، محبت اور جدائی کے جذبات ایک ساتھ نظر آئے، جہاں ہر آنکھ اشکبار اور ہر لب دعاگو تھا۔صبح صادق کے ساتھ ہی حج ہاؤس کے احاطے میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں کو الوداع کہنے کے لیے جمع تھے۔ کوئی خاموشی سے گلے لگ کر اپنے جذبات چھپا رہا تھا تو کوئی ہاتھ اٹھا کر ربِ کعبہ کے حضور اپنے عزیزوں کی سلامتی اور قبولیتِ حج کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔یو این ایس کے مطابق فضا میں کلمہ حق کی صدائیں، دعاؤں کی سرگوشیاں اور رخصتی کے لمحات کی اداسی واضح محسوس کی جا سکتی تھی۔ بچے اپنے بزرگوں کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہہ رہے تھے، خواتین نم آنکھوں کے ساتھ دعائیں دے رہی تھیں، جبکہ معمر عازمین اپنے چہروں پر طمانیت اور روحانی سرور لیے تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ایک بزرگ عازم، علی محمد میر نے رخصتی سے قبل جذباتی انداز میں کہا’’یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے ہمیں اپنے گھر بلایا۔ ہم نے برسوں اس لمحے کا انتظار کیا، آج دل شکر سے لبریز ہے۔‘‘اسی طرح ایک خاتون، جو اپنے والدین کو رخصت کرنے آئی تھیں، نے کہا’’یہ لمحہ ہمارے لیے خوشی اور غم دونوں لے کر آیا ہے۔ جدائی کا دکھ ضرور ہے مگر اس سے بڑی خوشی یہ ہے کہ وہ اللہ کے گھر جا رہے ہیں۔ ہم سب ان کی خیریت اور کامیاب واپسی کے لیے دعاگو ہیں۔‘‘ایک نوجوان، بشارت احمد نے کہا ک’’آج یہاں ہر خاندان کی آنکھ نم ہے، مگر دلوں میں خوشی بھی ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ سب عازمین بخیر و عافیت حج ادا کریں اور واپس لوٹیں۔‘‘حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی کے مطابق پہلے دن تین خصوصی پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر 431 عازمین کو روانہ کیا گیا، جن میں 230 مرد اور 201 خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی پرواز میں 79 مرد اور 66 خواتین، دوسری میں 78 مرد اور 65 خواتین جبکہ تیسری پرواز میں 73 مرد اور 70 خواتین شامل تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ عازمین کی سہولت اور آسانی کے لیے تمام ضروری انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے، جن میں ٹرانسپورٹ، سامان کی منظم ترسیل، طبی معائنہ، امیگریشن اور دستاویزات کی جانچ شامل ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور روانگی کا عمل مکمل طور پر منظم اور ہموار رہے،’’ ۔حکام کے مطابق اس سال جموں و کشمیر (بشمول لداخ) سے مجموعی طور پر 4764 سے زائد عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے، جبکہ پورے بھارت سے تقریباً 1.75 لاکھ افراد اس عظیم مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس کا رخ کریں گے۔دوسری جانب مکہ مکرمہ میں حج سیزن کے پیش نظر سکیورٹی اور انتظامی ضوابط کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق 13 اپریل سے بغیر حج اجازت نامہ رکھنے والے افراد کے مکہ میں داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ 18 اپریل کے بعد صرف حج ویزا رکھنے والے افراد کو ہی شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ عمرہ ویزوں کے اجرا کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے تاکہ حج انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کیرن رجیجو نے عازمین حج کو مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے سفر کو محفوظ، آرام دہ اور باوقار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں عازمین کی رہنمائی اور سہولت کے لیے 200 سے زائد انتظامی اہلکار اور 350 طبی و پیرا میڈیکل اسٹاف تعینات کیا جائے گا۔اس سال پہلی مرتبہ مختصر دورانیے پر مشتمل 20 سے 25 دن کا خصوصی حج پیکیج بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس سے ہزاروں عازمین مستفید ہو رہے ہیں۔حج 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی وادی کشمیر سے عقیدت، محبت اور روحانیت کا ایک عظیم سفر شروع ہو چکا ہے۔ یہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ ایمان کی تجدید، صبر کی آزمائش اور اللہ سے قربت کا ایک بے مثال موقع ہے۔ ہر دل دعاگو ہے کہ یہ مقدس سفر تمام عازمین کے لیے آسان ہو اور وہ بخیر و عافیت اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔