سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے گورنمنٹ لل دید ہسپتال میں توسیعی بلاک کی جاری تعمیر کا معائینہ کیا اور پروجیکٹ کی پیش رفت ، عمل آوری کی حکمت عملی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا جامع جائیزہ لیا ۔ پریمئیر میٹر نٹی کئیر ہسپتال میں تیار کی جانے والی سہولت کو بانجھ پن اور گائناکولوجیکل آنکولوجی سنٹر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ جموں و کشمیر میں زچگی اور نوزائیدہ صحت کی خصوصی خدمات کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا ۔ دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے تعمیرات کی رفتار اور معیار کا جائیزہ لیا ، اہم سہولیات میں اضافے کا جائیزہ لیااور ٹائم لائینز کی پابندی پر زور دیا ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ معیار کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے منصوبے کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے ۔ ان کے ہمراہ ان کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، پرنسپل اور ڈین گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر ڈاکٹر ( پروفیسر ) عفت حسن ، ایڈمنسٹریٹر جی ایم سی سرینگر محمد اشرف ہکاک ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایل ڈی ہسپتال ، اور پی ڈبلیو ڈی ( آر اینڈ بی ) جے اینڈ کے ایرا کشمیر کے سینئر افسران اور دیگر بھی موجود تھے ۔ وزیر اعلیٰ کو اس منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ، جس پر پی ڈبلیو ڈی ( آر اینڈ بی ) محکمہ کی جانب سے ورلڈ بینک کی مالی اعانت سے چلنے والے جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ ( جے ٹی پی ایف آر پی ) کے تحت 118.22 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے کام کیا جا رہا ہے ۔ یہ سہولت +G+5 اٹاری ڈھانچے کے طور پر تعمیر کی جا رہی ہے جس کا کل تعمیر شدہ رقبہ تقریباً 11640 مربع میٹر ہے اور اس میں جدید نگہداشت کیلئے 117 خصوصی بستر ( 65 بالغ اور 52 شیر خوار بچے ) ہوں گے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس مرکز میں جدید ترین انفراسٹرکچر بشمول ماڈیولر آپریشن تھیٹرز ، آئی سی یو ، ایچ ڈی یو ، این آئی سی یو ، لیبر ، ڈیلیوری اور ریکوری ( ایل ڈی آر ) سویٹس ، آئی وی ایف لیبارٹریز اور جنین کی مداخلت کی جدید سہولیات ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہسپتال کے جدید معیارات کے مطابق ہوں گی ۔ وزیر اعلیٰ نے تمام اسٹیک ہولڈر محکموں بالخصوص محکمہ صحت کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تا کہ فنڈ کے بلا تعطل بہاؤ ، بروقت منظوریوں کو یقینی بنایا جا سکے اور سہولت کے مکمل ہونے پر اس کی آسانی سے آپریشنلائزیشن کی جا سکے ۔ پروجیکٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی سہولت صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور جموں و کشمیر میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو خصوصی ، قابل رسائی اور اعلیٰ معیار کی دیکھ بھال فراہم کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی ۔










