غیر مجاز یونیورسل اکاؤنٹ نمبر( UAN)کو درست کرنے کیلئے مدت میں توسیع
نئی دہلی//ٹی ای این / ایمپلائز پرووڈنٹ فنڈ آرگنازیشن (ای پی ایف او) نے اپنے لاکھوں صارفین کو بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے یونیورسل اکاؤنٹ نمبر (UAN) سے غلط ممبر آئی ڈیز کو علیحدہ (De-link) کرنے کی سہولت میں توسیع کر دی ہے، حتیٰ کہ ایسے معاملات میں بھی جہاں ان آئی ڈیز کے تحت ای پی ایف کی شراکت جمع ہو چکی ہو۔ای پی ایف او کی جانب سے 13 اپریل 2026 کو جاری کردہ سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ اْن شکایات کے پیش نظر کیا گیا ہے جن میں ملازمین نے بتایا تھا کہ ان کے نام پر بغیر علم کے غلط ممبر آئی ڈیز تخلیق کر دی گئی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے فنڈز اور ریکارڈ میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔حکام کے مطابق اس نئی سہولت کے تحت اب وہ ممبران بھی اپنی غلط ممبر آئی ڈیز کو اپنے یو اے این سے الگ کر سکیں گے، جن کے کھاتوں میں پہلے ہی آجر (Employer) کی جانب سے کنٹری بیوشن جمع کرائی جا چکی ہے۔ اس سے قبل یہ سہولت محدود تھی اور ایسے کیسز میں ڈی لنکنگ ممکن نہیں تھی۔ای پی ایف او نے واضح کیا ہے کہ یہ قدم شفافیت بڑھانے، ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانے اور ملازمین کو درپیش طویل عرصے سے جاری مسائل کو حل کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس اقدام سے اْن ملازمین کو خاص طور پر فائدہ پہنچے گا جن کے ایک سے زائد ممبر آئی ڈیز بن گئے تھے یا غلطی سے کسی اور ادارے کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے۔ای پی ایف او کے مطابق ممبران کو سب سے پہلے اپنے یو اے این پورٹل پر لاگ اِن کرنا ہوگا۔ اس کے بعد “Manage” سیکشن میں جا کر Mark Exi یا متعلقہ آپشن کے ذریعے غلط ممبر آئی ڈی کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ اس کے بعد De-link یا شکایت درج کرنے کے آپشن کے تحت درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔اسکے علاوہ ممبران کو اپنی شناختی تفصیلات، آجر کی معلومات اور متعلقہ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گے تاکہ تصدیق کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ ای پی ایف او نے کہا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام جانچ پڑتال کریں گے اور اگر دعویٰ درست پایا گیا تو غلط ممبر آئی ڈی کو یو اے این سے الگ کر دیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ای پی ایف او کے ڈیجیٹل نظام کو مزید موثر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ڈیٹا کی درستگی بہتر ہوگی بلکہ ملازمین کو اپنی بچت اور پنشن سے متعلق معاملات میں آسانی بھی حاصل ہوگی۔ادھر ملازمین نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے برسوں سے درپیش مسائل کا حل ممکن ہوگا اور ای پی ایف نظام پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔










