بھتیجے اجیت پوار کے ذریعے این سی پی چھیننے سے افسردہ 83 سالہ شرد پوار نے ایک بار پھر سے نئی سیاسی پاری کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔ شردپوار کا کہنا ہے کہ اب وہ نئے سرے سے شروعات کریں گے۔ پارٹی اور اس کے انتخابی نشان کے چھن جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پارٹی ختم ہو گئی ہے۔ کارکنوں کے ساتھ نئے سرے سے ایک پھر ہم کام شروع کریں گے۔پونے میں گووند باغ کی اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ’’ملک نے ایسی صورتحال کبھی نہیں دیکھی کہ پارٹی بنانے والے کو ہی اس پارٹی سے نکال دیا گیا ہو، لیکن ہمارے ساتھ ایسا ہوا۔‘‘ شرد پوار نے اپنی پارٹی کی تعمیر نو کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’نہ صرف پارٹی کا نام بلکہ این سی پی کا انتخابی نشان ’گھڑی‘ بھی چھین لیا گیا، جو قانون کے مطابق قطعاً نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ این سی پی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔ اس کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔‘‘نوبھارت ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ’’نشان چلے جانے کے بارے میں زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اب تک 14 الیکشن لڑ چکا ہوں۔ ان میں سے 5 الگ الگ نشانات ’بیلوں کی جوڑی‘، ’گائے اور بچھڑا‘، ’چرخہ‘، ’ہاتھ‘ اور آخر میں ’گھڑی‘ کے نشان پر الیکشن لڑا ہوں۔ انتخابی نشان چھن جانے کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی بھی ختم ہو گئی۔‘‘ پوار کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی پارٹی کے کارکنوں کے پاس جائیں گے۔ پارٹی کی پالیسیوں اور اصولوں کو عام لوگوں کے سامنے بیان کریں گے۔ وہ ایک نئی امید کے ساتھ مہاراشٹر میں گھومیں گے، لوگوں سے ملیں گے اور انہیں منائیں گے جو کسی وجہ سے ناراض ہیں۔ شرد پوار کے مطابق ’’نئے انتخابی نشان کے ساتھ زیادہ پریشانی نہیں ہو گی۔‘‘اجیت پوار کی جانب سے لگائے جا رہے الزامات پر شرد پوار نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاست کے عوام انتخابات کے دوران مناسب فیصلہ کریں گے۔‘‘ اشوک چوہان کے بی جے پی میں جانے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شرد پوار نے کہا کہ ’’فی الوقت اے سی بی اور ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) جیسی کئی ایجنسیوں کا اثر اور ان کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا استعمال کس طرح اپوزیشن کے خلاف کیا جا رہا ہے۔‘‘ شرد پوار کے ایک بار پھر خم ٹھونک کر میدان میں اترنے کے اعلان کو ان کے بھتیجے اجیت پوار کے لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، مجتبیٰ خامنہ ای نے 6اہم عہدوں پر نئے کمانڈروں کی تقرری کر دی
غیر ملکی افواج کو خطہ سے نکل جانا چاہیے:ولایتی
ایران جنگ سے امریکی تیل کمپنیوں کے منافع میں اضافہ
مریضوں کے نام پر جعل سازی، آیوشمان اسکیم سے 2359اسپتال باہر، 1200پر پابندی
گاہکوں کیلئے یو پی آئی ادائیگیاں مفت رہیں گی
سلووینیا میں ہندوستانی سفارت خانے کو پہنچایا گیا نقصان، ہندوستان کی شدید مذمت
دھامی کی عوام سے یومِ آزادی پر اپنے گھروں میں ترنگا لہرانے کی اپیل
اس یوم آزادی پر لال قلعہ پروندے ماترم گایا جائے گا
منی پور تشدد:دو خصوصی عدالتوں پر غور
مشینی قالینوں کیلئے علیحدہ ہارمونائزڈ سسٹم آف نومنکلیچرکوڈ کی سفارش










