22ہزار کروڑ کا دعویٰ لیکن ملے صرف 6.5کروڑ روپے، جے رام رمیش نے این سی ایل ٹی کے فیصلہ پر اٹھایا سوال

22ہزار کروڑ کا دعویٰ لیکن ملے صرف 6.5کروڑ روپے، جے رام رمیش نے این سی ایل ٹی کے فیصلہ پر اٹھایا سوال

نئی دہلی/قومی آواز//’نیشنل کمپنی لا ٹریبونل‘ (این سی ایل ٹی) نے ’زی گروپ‘ کے بانی اور چیئرمین سبھاش چندرا کے ذاتی دیوالیہ پن کے معاملے میں ان کے ری پیمنٹ پلان کو منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت قرض خواہوں کو تقریباً 22,006.57 کروڑ روپے کے منظور شدہ دعووں کے مقابلے صرف 6.5 کروڑ روپے ملیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ قرض خواہوں کو تقریباً 99.97 فیصد کا ہیئرکٹ برداشت کرنا پڑے گا اور انہیں اپنے منظور شدہ دعووں کا صرف تقریباً 0.03 فیصد ہی واپس ملے گا۔
این سی ایل ٹی کے اس فیصلے پر کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں مالی اصطلاح ’ہیئرکٹ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی قرض خواہ کی رقم واجب الادا ہو اور قرض دار اس کا صرف ایک حصہ ادا کرے تو واجب الادا رقم اور ادا کی گئی رقم کے درمیان فرق کو فیصد میں ظاہر کرنے پر اسے ’ہیئرکٹ‘ کہا جاتا ہے۔
جے رام رمیش نے اس پوسٹ میں آگے لکھا ہے کہ این سی ایل ٹی نے ایک معروف کاروباری شخصیت کے ری پیمنٹ پلان کو منظوری دی ہے، جس کے تحت قرض خواہوں کو تقریباً 22,006.57 کروڑ روپے کے منظور شدہ دعووں کے بدلے صرف 6.5 کروڑ روپے ملیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’یہ صرف ہیئرکٹ نہیں ہے، بلکہ اصل معنوں میں ’منڈن‘ ہے اور انسولوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ، 2016 کا مکمل مذاق اڑاتا ہے۔‘‘ بتایا جا رہا ہے کہ ری پیمنٹ پلان کو منظوری معاملہ میں این سی ایل ٹی نے سبھاش چندرا کی ذاتی جائیداد اور اثاثوں کی مالیت کو بھی مدنظر رکھا ہے۔ ٹریبونل کے مطابق ریزولوشن پروفیشنل کی جانب سے کی گئی مالیت کے تعین سے ظاہر ہوا کہ چندرا کی ذاتی جائیداد کی قدر ری پیمنٹ پلان کے تحت پیش کی گئی رقم سے بھی نمایاں طور پر کم تھی۔ ٹریبونل نے یہ بھی کہا کہ اگر ری پیمنٹ پلان مسترد کر دیا جاتا اور سبھاش چندرا دیوالیہ پن کی کارروائی کی جانب جاتے تو قرض خواہوں کے لیے رقم کی وصولی کے امکانات مزید کم ہو سکتے تھے۔ ٹریبونل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کا کردار قرض خواہوں کے تجارتی فیصلے کو اپنی رائے سے تبدیل کرنا نہیں ہے۔ تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے کے منظور شدہ دعووں کے مقابلے صرف 6.5 کروڑ روپے کی وصولی کا مطلب ہے کہ قرض خواہوں کو تقریباً 99.97 فیصد رقم سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ یہی غیر معمولی فرق اس فیصلے کو بحث کا موضوع بنا رہا ہے۔
جے رام رمیش نے اسی فرق کو بنیاد بنا کر حکومت اور انسولوینسی نظام پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے محض مالی اصطلاح میں ’ہیئرکٹ‘ کہنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ یہ صورت حال اس سے کہیں زیادہ ہے۔ این سی ایل ٹی کے فیصلے کے بعد اب اس معاملے نے نہ صرف مالیاتی اور قانونی حلقوں میں بلکہ سیاسی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ دیوالیہ پن کے معاملات میں قرض خواہوں کے مفادات، قرض دار کی حقیقی ادائیگی کی صلاحیت اور زیادہ سے زیادہ وصولی کے مقصد کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔