jay ram ramesh

’2030میں دہلی کا اقتدار کانگریس کے ہاتھوں میں ہوگا‘، اسمبلی انتخاب میں عآپ کی شکست کے بعد جئے رام رمیش کا دعویٰ

دہلی اسمبلی انتخاب کے برآمد نتیجے میں کانگریس کو بھلے ہی ایک بھی سیٹ نہیں ملی، لیکن کانگریس لیڈران اس سے ناامید نظر نہیں آ رہے۔ کانگریس کو عآپ کی شکست میں اپنی کامیابی دکھائی دے رہی ہے، اور دعویٰ تو یہاں تک کیا جانے لگا ہے کہ اس نتیجہ سے 2030 میں کانگریس کی راہ آسان ہو گئی۔ جئے رام رمیش نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کچھ اسی طرح کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ 2030 میں دہلی کا اقتدار ایک بار پھر کانگریس کے ہاتھوں میں ہوگا۔
’ایکس‘ پر کیے گئے اپنے پوسٹ میں جئے رام رمیش نے لکھا ہے کہ ’’2025 کے دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی پر ریفرینڈم سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے بی جے پی کی اس جیت کو پی ایم مودی کا کرشمہ ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب 2015 اور 2020 میں وزیر اعظم کی مقبولیت عروج پر تھی، تب عآپ نے دہلی میں نتیجہ خیز جیت حاصل کی تھی۔ دہلی کے انتخابی نتائج وزیر اعظم کی پالیسیوں پر مہر نہیں ہے، بلکہ یہ مینڈیٹ اروند کیجریوال کے دھوکے، گمراہی اور کامیابی سے متعلق بے وجہ دعووں کو مسترد کرتا ہے۔‘‘
کیجریوال کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس لیڈر نے پوسٹ میں آگے لکھا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی نے اروند کیجریوال کی حکومت میں ہوئے مختلف گھوٹالوں کو ظاہر کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ دہلی کے ووٹرس نے عام آدمی پارٹی کی 12 سالہ حکمرانی پر اپنا فیصلہ سنایا۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’کانگریس کو اس انتخاب میں بہتر کارکردگی کی امید تھی۔ حالانکہ پارٹی نے اپنے ووٹ شیئر میں اضافہ کیا ہے۔ کانگریس کی انتخابی مہم شاندار تھی۔ پارٹی اسمبلی انتخاب میں بھلے ہی جیت نہیں درج کر پائی ہو، لیکن دہلی میں اس کی مضبوط موجودگی بنی ہوئی ہے، جسے لاکھوں کانگریس کارکنان کی مستقل کوششوں سے مزید مضبوط کیا جائے گا۔ 2030 میں دہلی میں پھر سے کانگریس حکومت بنے گی۔‘‘