ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر شکتی کانت داس نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ 2000روپے قدر کے نوٹ بڑی تعداد میں بینکوں میں واپس آ چکے ہیں، لیکن اب بھی 2000روپے پر مشتمل 10ہزار کروڑ روپے کے نوٹ سسٹم میں موجود ہیں۔ شکتی کانت داس نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ یہ نوٹ بھی جلد ہی واپس کر دیے جائیں گے یا واپس جمع کیے جائیں گے۔آر بی آئی گورنر کا کہنا ہے کہ ’’2000روپے کے نوٹ واپس آ رہے ہیں اور سسٹم میں صرف 10ہزار کروڑ روپے ہی ایسے نوٹ بچے ہیں جو 2000 روپے کے نوٹ پر مشتمل ہیں۔ امید ہے کہ یہ رقم بھی واپس آ جائے گی۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اکتوبر ماہ کے شروع میں گورنر نے کہا تھا کہ واپس لیے جا رہے 2000 روپے کے نوٹوں میں سے 87 فیصد بینکوں میں جمع ہو چکے ہیں اور باقی کاؤنٹرس پر بدل دیے گئے ہیں۔ بینکوں یا کاؤنٹرس میں 2000 روپے کے نوٹوں کو جمع کرنے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر تھی جو کہ ختم ہو چکی ہے۔ اب ان نوٹوں کو صرف آر بی آئی میں ہی بدلا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ آر بی آئی نے رواں سال 19 مئی کو اچانک ایک حیران کرنے والا فیصلہ لیا اور 2000روپے کے نوٹوں کو سلسلہ وار طریقے سے واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ عوام اور 2000 روپے کا نوٹ رکھنے والی یونٹس کو شروع میں 30ستمبر 2023 تک 2000 روپے کے نوٹ بدلنے یا بینک اکاؤنٹس میں جمع کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ بعد میں آخری تاریخ بڑھا کر 7 اکتوبر کر دی گئی تھی۔ 8 اکتوبر کے بعد سے 2000 روپے کے نوٹ صرف آر بی آئی کے 19 علاقائی دفاتر میں ہی بدلے جا سکیں گے۔ آر بی آئی کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ایک بار میں 2000 روپے کے صرف 10 نوٹ (20000) ہی بدلے جا سکتے ہیں۔










