Shortage of power

ہر سو بجلی کی بحرانی صورتحال پیدا ،شہرودیہات میں عوام نالاں وپریشان

سرینگر / /شہرودیہات میں بجلی کٹوتی سے لوگ انتہائی پریشانی سے دوچار ہیں ۔کیونکہ آج کل بجلی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بنا ہوا ہے ۔اس لئے بجلی سپلائی میں باربار خلل سے لوگ حکومت کے خلاف نالاں ہیں اورآئے روز سڑکوں پر آکر محکمہ پی ڈی ڈی کی اس ناقص پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ افسران کی یقین دہانیوںکے باوجود بھی کٹوتی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاتی ہے اور شیڈول کی ہر سطح پر پامالی کی جاتی ہے جوبحرصورت لوگوں کیلئے باعث عذاب ثابت ہوجاتی ہے ۔حیرانگی کی بات ہے کہ بیشتر دیہات میں جب سے بجلی کی سپلائی شروع کی گئی ہے وہی بوسیدہ کھمبے آج تک موجود ہیں نہ کھمبے تبدیل کئے گئے نہ ترسیلی لائن جدید طرز پر نصب کی گئی ۔نہ کبھی مرمت ہوئی اور نہ ہی کھمبوں پر لگے انسی لیٹر تبدیل کئے گئے ہیں ۔بلکہ بجلی کی ترسیلی لائنیں خار داردرختوں پر لٹکی ہوئی ہیں۔اس سلسلے میں شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ ان کے علاقوں میں ماضی کی طرح بجلی کٹوتی شروع کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں آج کل بجلی کی کم وولٹیج اور آنکھ مچولی ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے اوراکثر اوقات عوامی وفود متعلقہ حکام تک شکایتیں لے کر آتے رہتے ہیں اور سڑکوں پر آکر احتجاج بھی کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھی حکام سننے کیلئے بھی تیار نہیںہیںاور کوئی خاطر خواہ اقدام اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ رقم کثیر تاحال مرمت اور تبدیلی بجلی ترسیلی لائن و بجلی کھمبوں وغیرہ پرخرچ کیا جاچکا ہے جو کہ صرف اور صرف دستاویزات میں ہی درج ہے جبکہ زمینی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہیں۔ زمینی سطح پر محکمہ پی ڈی ڈی کی کارکردگی ، مرمت اور تبدیلی ترسیلی لائن وغیرہ قابل توجہ و قابل تحقیقات ہے، کیونکہ یہ وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ محکمہ بجلی کے افسران دفتروں سے باہر کبھی آئے ہی نہیں۔عوام بجلی کی عدم دستیابی، کم وولٹیج اور آنکھ مچولی سے تنگ آچکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماہانہ بجلی فیس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ دن رات میں پانچ دس گھنٹے کی بجلی کی فراہمی پر بھی گاؤں کے سادہ لوح لوگ خوش رہتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ہفتہ میں دو تین دن اور دن رات میں دو تین گھنٹوں کے وقفے وقفے سے کم وولٹیج والی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی بحرانی کیفیت سے عوامی حلقوں میں رنج و غم اور تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے اور کہا کہ دور دراز گاؤں میں عوام کی کوئی سنتا بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائے وے پر مقیم لوگ اگر چہ سڑکوں پر آکر روڑ بلاک کرتے ہیں اور حکام کا توجہ حاصل کرتے ہیں لیکن دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ہڑتال اور احتجاج سے سرکار اور حکام پر جوں بھی رینگتی نہیں ہے اور نہ ہی ان پسماندہ علاقوں کی طرف کوئی توجہ مبذول نہیں کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میںانہوں نے متعلقہ حکام اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بجلی بحران کے خاتمہ کیلئے مرتب شدہ شیڈول کے مطابق شہر ودیہات میںبجلی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کے نام سخت احکامات جاری کئے جائیں اور بوسیدہ بجلی کھمبوں وترسیلی لائنوں کو جدید طرز پر نئے سرے سے نصب کیا جائے تاکہ شہر ودیہات کے لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوجائے گااورلوگ سردی کے کٹھن ایام میں مشکلات سے نجات حاصل کریں گے ۔