پڑوسی ملک طویل عرصے سے دہشت گردی، منظم جرائم اور غیر قانونی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز رہا

’’پاکستان جو بوئے گا وہی کاٹے گا‘‘، شہریوں کی ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد اور من گھڑت / خارجہ ترجمان

سرینگر // دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے ساتھ ہندوستان کو جوڑنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ پڑوسی ملک طویل عرصے سے دہشت گردی، منظم جرائم اور غیر قانونی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دعوئوں کو ’’جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی ہندوستان مخالف پروپیگنڈے کو پھیلانے کی تازہ ترین کوشش ‘‘قرار دیا۔سی این آئی کے مطابق دو پاکستانی شہریوں کی موت سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ ترجمان نے کہا کہ ہندوستان اور بہت سی دوسری اقوام نے عوامی طور پر پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اسے دہشت گردی اور تشدد کی اپنی ثقافت سے بھسم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’پاکستان جو بوئے گا وہی کاٹے گا‘‘۔”جیسوال نے کہا’’ہم نے پاکستان کے خارجہ سکریٹری کے بعض ریمارکس کے حوالے سے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔ یہ جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی ہندوستان مخالف پروپیگنڈے کو پھیلانے کی پاکستان کی تازہ ترین کوشش ہے۔ انہوںنے کہاکہ جیسا کہ دنیا جانتی ہے، پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی، منظم جرائم، اور غیر قانونی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ ہندوستان اور کئی دوسرے ممالک نے عوامی سطح پر پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے دہشت گردی اور تشدد کی اپنی ثقافت کے ذریعے کھا جائے گا‘‘۔اپنی بداعمالیوں کیلئے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا نہ تو کوئی جواز ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی حل۔خیال رہے کہ جمعرات کو، پاکستان کے سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے پاس ہندوستانی ایجنٹوں کے درمیان روابط اور سیالکوٹ اور راولکوٹ میں دو پاکستانی شہریوں شاہد لطیف اور محمد ریاض کے قتل کے معتبر ثبوت ہیں۔