CM Omar Abdullah conducts surprise checks at Kashmir’s premier Medical Institutions

وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کشمیر کے اہم طبی اِداروں کا اَچانک معائینہ کیا

بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ میں اِضافی بلاک کو فعال کرنے کیلئے جنوری 2025ء کی ڈیڈ لائن مقرر

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر میں اہم صحت اِداروں کا اچانک معائینہ کیا تاکہ مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کے بارے میں جانکاری حاصل کی جاسکے۔وزیراعلیٰ نے بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزولہ کا دورہ کیا جو خطے کی اعلیٰ آرتھوپیڈک ہیلتھ کیئر سہولیات میں سے ایک ہے ۔اُنہوں نے اَپنے معائینے کے دوران مختلف حصوں اور وارڈوں کا دورہ کیا اور مریضوں اور تیمارداروں سے بات چیت کی تاکہ ُان کے مسائل کو سمجھا جاسکے۔

وزیرا علیٰ نے وزیربرائے صحت سکینہ اِیتو، سینئر فیکلٹی ممبران اور ڈاکٹروں کے ہمراہ ہسپتال عملے کے ساتھ سردیوں کے اِنتظامات ،علاج معالجے کی سہولیات اور طبی پیشہ ور اَفراد اور پیرا میڈکس کی دستیابی کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ (جے ٹی ایف آر پی) کے تحت عالمی بینک کی مالی معاونت سے تعمیر کئے گئے ہسپتال کے جدید ترین اِضافی بلاک کا بھی معائینہ کیا۔یہ بلاک زلزلے سے بچنے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا اور 160 بستروں کا اِضافہ کرے گا جس سے ہسپتال کی کُل گنجائش 150 سے بڑھ کر 310 ہو جائے گی۔اُنہوں نے نئے بلاک کی تکمیل میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا جو 2022 ء میں آتشزدگی کے واقعے کی وجہ سے پیدا ہونے والی جگہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے اہم ہے جس نے ہسپتال کی 200 بستروں کی اصل گنجائش کو کم کر دی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ کہ وہ جنوری 2025ء تک مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے کے لئے اس کے فوری آپریشنلائزیشن کو یقینی بنائیں تاکہ اِس سہولیت کو عوامی خدمت کے لئے وقف کیا جاسکے۔اُنہوں نے بمنہ میں 500 بستروں پر مشتمل چلڈرن ہسپتال کا بھی معائینہ کیا اور اُنہوں نے وہاں مریضوں، تیمارداروں اور ہسپتال کے عملے سے بات چیت کی۔اُن کے دورے کے دوران دُور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے تیمارداروںنے اَپنے قیام کے لئے سرائے کی کمی پر تشویش کا اِظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ایک سرائے تعمیر کریں تاکہ تیمارداروں کو اَقامتی سہولیت فراہم کی جاسکے اور اُن کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔ہسپتال عملے نے جگہ کی تنگی کی وجہ سے سپر سپیشلٹی سہولیات کو وسعت دینے کے چیلنجوں کو اُجاگر کیا۔وزیراعلیٰ نے اُنہیں یقین دِلایا کہ اِس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اُنہوں نے نہ صرف اِس ہسپتال میں بلکہ جموں و کشمیر میں صحت اِداروں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس سمیت طبی عملے کی کمی کو دور کرنے کا بھی وعدہ کیا۔مزید برآں، اُ نہوں نے ہسپتال اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ مریضوں کے لئے اَدویات اور دیگر ضروری سہولیات کی بروقت دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے معائینے کے دوران عوام کے لئے بہتر سہولیات کو یقینی بنانے اور جموں و کشمیر میں صحت اِداروں میں اَفرادی قوت کی کمی کو دور کرنے کے لئے صحت نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے اَپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔دوروں کے دوران وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر برائے صحت سکینہ اِیتو ، میڈیکل سپر اِنٹنڈنٹ چلڈرن ہسپتال ، سینئر فیکلٹی ممبران اور دیگر متعلقہ اَفسران بھی تھے۔