سرینگر//شہری سرینگر میں گزشتہ دنوں حیدر پورہ میں مبینہ تصادم آرائی میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر کے قتریباً تمام علاقوں میں ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر رہے جس دوران تمام کار باری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ جزوی طور دوڑتا نظر آیا ہے تاہم کسی بھی علاقے میں امن و قانون کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور حالات پر امن رہے ۔ اس دوران ڈاکٹر مڈثر گل اور الطاف احمد دار آبائی قبرستانوں میں سپرد لحد کیا گیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ دنوں حیدر پورہ میں ایک مبینہ انکونٹر میں مارے گئے تین عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میںجمعہ کے صبح سویرے سے ہی تمام دکانیں بند رہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتے نظر آئی ہے ۔ اس دوران کشمیر نیوز سروس کے سٹی رپوٹر نے شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں کا جمعہ کی صبح دورہ کیا ہے جہاں تمام کار باری ادارے ماسوا ادویات،دودھ اور سبزی فروش شامل ہیں بند رہے جبکہ شہری کے اندونی بڑے بازاروں میں بھی سناٹاچھا یا رہا ہے ۔نمائندے نے بتایا چہر کے اکثر روٹوں پر چھوٹی مسافر گاڑیاں یا نجی گاڑیوں کو چلتے دیکھا گیا ہے ۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے نامہ نگار نے بتایا کہ ضلع اور اس کے تحصیل صدر مقامات پر بھی مکمل ہڑتال رہی ہے تاہم یہاں بھی نجی ٹرانسپورٹ چلتا تھا۔ انہوں نے بتایا شہری ہلاکتوں کے خلاف لوگوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ۔شوپیان،کولگام،ترال،اونتی پورہ ،شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ہڑتال نہ ہونے کے برابر رہا ہے ۔نمائندے نے بتایا سوپور میں ان ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر رہی ہے ۔ اسی طرح وادی کے باقی علاقوں میں بھی صورتحال تقریباً یکسان تھی حکام نے بتایا کہ امن و امان کے کسی بھی مسئلے کو روکنے کے لیے تمام حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی بھی کی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب علیحدگی پسند جماعتوں نے وادی میں ہڑتال کی کال دی تھی۔اے پی ایچ سی نے ایک بیان میںجمعہ کو سری نگر میں ہونے والے تصادم مارے گئے معصوم شہریوں کی ہلاکت سے پورا کشمیر دہل اٹھا۔ادھراہل خانہ اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج بعد انتظامیہ نے لطاف بٹ اور مدثر گل کی لاشوں ان ہندوارہ قبرستان سے جمعرات کی رات دیر گئے نکال کر جمعہ کی صبح ایک بجے کے قریب فورسز کی موجودگی میں لواحقین کو واپس کر دی گئیں اور انہیں سری نگر میں ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔اس دوران مہلوکیں کے گھروں میں پھر ایک بار صف ماتم بچھ گئی جبکہ یہاں خواتین زار قطار جن میں ان کے قریبی رشتہ دار رو رہے تھے ۔اس واقعے کے خلاف خطہ چناب کے رام بن کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں لوگوں میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔خیال رہے جموںو کشمیر ایل جی انتظامیہ نے اس واقعے کی انکوئری کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔انہوں یقین دلایا رپورٹ آنے کے بعد مناسب کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کسی بھی قیمیت پر نا انصافی نہیں ہوگی ۔ خیال رہے پیر کے روز سرینگر کے حیدر پورہ میں ایک انکونڑ میں چار افراد مارے گئے ہیں جن میں پولیس نے بتایا تھا ایک پاکستانی ہے جبکہ ایک مقامی اور دیگر دو افراد میں سے ایک کو اعانت کار جبکہ ایک کو کراس فائرنگ میںمارنے کا بیان جاری کیا تھا جس دوران روز اول سے ہی مہلوکیں کے رشتہ داروں پولیس کے بیان کو مسترد کیا تھا اور لاشوں کی واپیسی کا مطالبہ کر رہے تھے ۔










