آئندہ برس26 جنوری تک تمام گاڑیوں کیلئے ای چالان اور رجسٹریشن لازم
سرینگر//جموں و کشمیر حکومت نے معمولی معدنیات کی کنسیشن، ذخیرہ اور نقل و حمل کے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے ’جی پی ایس نصب شدہ‘گاڑیاں، آر ایف آئی ڈی رجسٹریشن اور درست ای چالان لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام ریاست میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی کان کنی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ تمام معدنیات کی نقل و حمل کے لیے 26 جنوری 2026 تک اس پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔معدنیات کے محکمے کے اضافی چیف سیکریٹری انل کمار سنگھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، 2016 کے قواعد کے تحت تبدیلیاں کی گئی ہیں، اور اب کوئی بھی کنسیشن ہولڈر، لیز ہولڈر، لائسنس ہولڈر، کرشر یا برک کلن یونٹ ہولڈر [جی پی ایس نصب شدہ گاڑیوں کے بغیر، آر ایف آئی ڈی نمبر کے بغیر اور ای چالان کے بغیر معدنیات کی نقل و حمل نہیں کر سکتا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نقل و حمل کے دوران فارم ‘A’ میں کیو آرکوڈ یا واٹر مارک‘ والا درست ای چالان لازمی ہوگا، جو محکمہ کے مخصوص ویب پورٹل کے ذریعے تیار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تمام گاڑیاں اور مشینری محکمہ میں رجسٹرڈ اور جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم سے لیس ہونی چاہیے تاکہ نگرانی اور تعمیل یقینی ہو سکے۔ معدنیات کی نقل و حمل کے دوران جی ایس ٹی شکایت انوائس بھی جاری کرنا لازمی ہوگا۔ محکمہ نے کہا کہ سامبا ضلع میں جی پی ایس نصب شدہ گاڑیوں کی پائلٹ رن کامیابی سے مکمل ہو چکی ہے اور 26 جنوری تک پورے یونین ٹیریٹری میں اس کا نفاذ کیا جائے گا۔ضلع سطح پرسریع الحرکات ٹیموں (کیو آر ٹی ) قائم کی جا رہی ہیں تاکہ غیر قانونی کان کنی کے واقعات پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ آئی ایم ایس ایس بھی BISAG-N کے تعاون سے نافذ کیا گیا ہے، جو جی پی ایس،ای چلان اور آر ایف آئی ویربریج ڈیٹا اور عوامی شکایات کا حقیقی وقت میں ڈیجیٹل ڈیش بورڈ پر یکجا نظام فراہم کرتا ہے۔محکمے کے مطابق 114 سسٹم سے آنے والی الرٹس کی زمین پر تصدیق کی گئی، جس کے نتیجے میں 14 غیر قانونی کان کنی کے کیسز سامنے آئے اور 90 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ مالی سال 2025–26 کے لیے محکمہ نے 300 کروڑ روپے کے ریونیو ہدف کا تعین کیا ہے، جس میں 200 کروڑ روپے معمولی معدنیات سے اور 100 کروڑ روپے متعلقہ سرگرمیوں سے متوقع ہیں۔










