amit shah

متاثرین اور شکایت کنندگان کو فائدہ حاصل پہنچانے کیلئے تمام فوجداری مقدمات کیلئے

نامعلوم لاشوں اور افراد کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک کا استعمال کیا جانا چاہیے/ امیت شاہ

سرینگر// تمام فوجداری مقدمات کیلئے پہلے سے طے شدہ مراحل اور ٹائم لائن پر رجسٹریشن سے لے کر کیس کے نمٹائے جانے تک کیلئے الرٹ بھیجا جانا چاہیے تاکہ متاثرین اور شکایت کنندگان کو فائدہ حاصل ہو کی بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ نامعلوم لاشوں اور افراد کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک کا استعمال کیا جانا چاہیے۔سی این آئی کے مطابق داخلہ اور تعاون کے مرکزی وزیر امیت شاہ نے نئی دہلی میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ساتھ تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ سے متعلق ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں مرکزی داخلہ سکرٹر ی ، این سی آر بی کے ڈائریکٹر، وزارت داخلہ اور این سی آر بی اور این آئی سی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیر داخلہ نے این سی آر بی سے کہا کہ وہ آئی سی جے ایس 2.0 میں نئے فوجداری قوانین کے مکمل نفاذ میں سہولت فراہم کریں۔ امیت شاہ نے کہا کہ ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ای-ساکشیہ، نیائے شروتی، ای سائن اور ای-سمنس جیسی ایپلی کیشنز کا استعمال کیاجانا چاہئے۔ٹکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام فوجداری مقدمات کیلئے پہلے سے طے شدہ مراحل اور ٹائم لائن پر رجسٹریشن سے لے کر کیس کے نمٹائے جانے تک کیلئے الرٹ بھیجا جانا چاہیے تاکہ متاثرین اور شکایت کنندگان کو فائدہ حاصل ہو۔ پہلے سے طے شدہ ٹائم لائنز کے مطابق تفتیشی افسران کے ساتھ ساتھ سینئر افسران کو الرٹس بھیجنے سے تحقیقات کے عمل میں تیزی آئے گی۔ امیت شاہ نے جرائم اور مجرمانہ ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز اور انٹر آپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) کی پیش رفت کی مستقل بنیادوں پر نگرانی کرنے اور اس پر زور دینے کے لئے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر پولیس افسران کیساتھ باقاعدہ طور پر بات چیت کئے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم لاشوں اور افراد کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک کا استعمال کیا جانا چاہیے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این سی آ بی کو تفتیشی افسران اور فوجداری انصاف کے نظام کے دیگر شراکت داروں کے فائدے کے لیے ڈیٹا سے بھرپور پلیٹ فارم تیار کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے نئے فوجداری قوانین اور قومی خودکار فنگر پرنٹ شناختی نظام (این اے ایف آئی ایس) کے تکنیکی نفاذ میں این سی آر بی کی کوششوں کی سراہنا کی۔