باہر کی منڈیوں سے 90فیصدی مال کشمیر پہنچتا ہے ، مال بردار گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر چلنے کی اجات لازمی
سرینگر/// ماہ رمضان کے متبر ک ایام کے دوران وادی کشمیر میں میوہ جات ، کھجور، سبزیاں ،مرغ گوشت اور دیگر اشیاء خوردنی کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور یہ سب چیزیں باہر کی منڈیوں سے حاصل کرنا پڑتا ہے تاہم باہر کی منڈیوں سے کشمیر تک پہنچنے میں مال بردار گاڑیوں کو پانچ سے سات دن تک لگ جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں تاجروںنے اپیل کی ہے کہ مال بردار گاڑیوںکو بلا خلا اور بلا روک ٹوٹ ترجیحی بنیادوں پر چلنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ وائس آ ف انڈیا کے مطابق ماہ رمضان کے ددوران وادی کشمیر میں میوہ جات اور سبزیوں کے علاوہ دیگر کھانے پینے کی اشیا کی خریدوفروخت میں زبردست اضافہ ہوجاتا ہے چونکہ اس وقت موسم سرماء چل رہا ہے اور وادی میں نہ ہی میوہ جات اور ناہی زیادہ سبزیاں تیار ہوتی ہے اسلئے اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے باہر کی منڈیوں سے اشیا کو حاصل کرنا پڑتا ہے تاہم باہر کی منڈیوں سے وادی تک پہنچنے میں گاڑیوں کو پانچ سے سات دن لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان گاڑیوں میں موجودہ میوہ جات اور دیگر سامان خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔باہر کی منڈیوں سے اکثر میوہ جات،سبزیاں ، گوشت ، مرغ اور کھجور کشمیر درآمد ہوتے ہیں تاہم سرینگر جموں شاہراہ کی خرابی اور دیگر وجوہات کی بناء پر گاڑیوں کو کئی کئی دنوں تک درماندہ ہونا پڑتا ہے اور اس سے یہ چیزیں خراب ہوجاتی ہیں ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ کئی تاجروں جن میں انت ناگ بیوپار منڈل کے رئیس احمد خان اور مسعود احمد میر نے کہا کہ باہر کی منڈیوں سے مال لانے میں گاڑیوں کو پانچ سے سات دن کشمیر پہنچنے میں لگ جاتے ہیں اور اس عرصے تک گاڑیوں میں موجود سامان خراب ہوجانے کا ندیشہ پیدا ہوتا ہے ۔انہوںنے بتایاکہ موسم گرما میں وادی میں بہت سے میوہ جات تیار ہوجاتے ہیں اور باہر سے کم لانا پڑتا ہے لیکن اس وقت قریب 90فیصدی اشیاء خوردنی باہر کی منڈیوں سے ہی کشمیر آتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ سرینگر جموں شاہراہ اور دیگر قومی شاہراہوںپر ان مال بردار گاڑیوں کو بلا روک ٹوک کے چلنے کی اجاز ت جانی چاہئے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر منزلوں کی طرف بڑھانے کیلئے اقدمات اُٹھائے جانے چاہئے ۔










