عید سے قبل قصابوں کا ازخود ریٹ لسٹ میں اضافہ

عید سے قبل قصابوں کا ازخود ریٹ لسٹ میں اضافہ

سرینگر//عیدالاضحیٰ سے قبل وادی میں قصابوں کی جانب سے گوشت کی قیمتوں میں ازخود اور بغیر کسی سرکاری منظوری کے اضافے نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل قصابوں کی انجمن نے ایک نئی ریٹ لسٹ جاری کرتے ہوئے بغیر اجڑی گوشت کی قیمت 700 روپے فی کلو اور اجڑی سمیت گوشت کی قیمت 620 روپے فی کلو مقرر کی تھی، جو اب عملی طور پر لاگو کر دی گئی ہے۔یہ فیصلہ نہ صرف حکومت کی مشاورت کے بغیر کیا گیا بلکہ متعلقہ شعبوں جیسے کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس نے اس اقدام سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ 2020 میں جہاں گوشت کی قیمت 480 روپے فی کلو تھی، وہاں اب 700 روپے تک جا پہنچنا گوشت کو عام شہری کی پہنچ سے دور کرتا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں گوشت کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ نومبر 2020 میں بھی جب قیمتوں میں ازخود اضافے کی کوشش کی گئی تھی تو حکومت اور کشمیر اکنامک الائنس کی مداخلت سے معاملہ طے پایا تھا اور 535 روپے فی کلو نرخ مقرر کیا گیا تھا۔تاہم جون 2023 میں جموں و کشمیر میٹن (لائسنسنگ اینڈ کنٹرول) آرڈر، 1973 کو منسوخ کیے جانے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔ سرکاری کنٹرول ختم ہوتے ہی قصابوں نے قیمتوں میں ازخود 115 روپے کا اضافہ کر کے نرخ 650 روپے مقرر کیے، اور اب تازہ اقدام میں 50 روپے کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عید جیسے مذہبی تہواروں کے موقع پر مہنگائی کا یہ طوفان ناقابل برداشت ہے۔ جاوید احمد خان نامی شہری نے کہا، “یہ خوراک کا بنیادی جز ہے، عیاشی نہیں، حکومت کو اس پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔” شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف قیمت ہی نہیں بلکہ گوشت کے معیار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔کشمیر اکنامک الائنس کی 2021 کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق وادی میں سالانہ تقریباً 2300 کروڑ روپے کا گوشت بیرونی ریاستوں سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ صرف 500 کروڑ روپے کا گوشت مقامی سطح پر فراہم ہوتا ہے۔سماجی و عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری مداخلت کرے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایک مؤثر اور فعال ہے۔