بیتاب ویلی میں سیاحوں کے ساتھ بات چیت ،وادی کشمیر کو محفوظ و پُر امن سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کی اپیل
اننت ناگ// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود و تعلیم سکینہ اِیتو نے پہلگام میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں سالانہ شری امرناتھ جی یاترا۔ 2025 کے سلسلے میں صحت عامہ سے متعلق اِنتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں رُکن قانون ساز اسمبلی پہلگام الطاف احمد وانی (کلو)، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایم ایس سی ایل، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، ڈائریکٹر فیملی ویلفیئر، ایم سی ایچ و ایمونائزیشن، ڈائریکٹر آیوش جموں و کشمیر، پرنسپل جی ایم سی اننت ناگ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (بی) اننت ناگ، ڈِسٹرکٹ پروگرام آفیسر پوشن، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پی ڈی اے، سپراِنٹنڈنگ اِنجینئر آر اینڈ بی سرکل اننت ناگ اور جل شکتی (ہائیڈرولک) کے اَفسران سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے یاترا کے احسن اِنعقاد کے لئے جاری تیاریوں اور طبی ڈھانچے کی تفصیلات حاصل کیں بالخصوص یاتریوں کے لئے معیاری اور قابل رَسائی صحت سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔وزیر صحت نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا نہ صرف ایک اہم روحانی تقریب ہے بلکہ یہ ایک اونچائی پر جانے والی یاترا بھی ہے جس کے لئے صحت سہولیات کا منصوبہ بندی کے تحت بندوبست ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو تاکید کی کہ طبی عملے کی بروقت تعیناتی، بیس ہسپتالوں کی فوری فعالیت، ایمرجنسی یونٹوںکے قیام اور ایمبولینسوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔اُنہوں نے پہلگام اور چندن واڑی میں قائم بیس ہسپتالوں کو یاترا کے آغاز سے پہلے مکمل طور پر فعال بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ چوبیس گھنٹے خدمات، ضروری اَدویات، آکسیجن سپورٹ سسٹم، موبائل میڈیکل یونٹوں اور ریپڈ رسپانس ٹیموںکی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیرموصوفہ نے طبی و نیم طبی عملے کے لئے اونچائی پر ہونے والی بیماریوں،ایمرجنسی طبی نگہداشت اور ایویاکویشن سے متعلق تربیتی مشقیں اورموک ڈرلز منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اُنہوں نے محکمہ صحت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیوں کے مابین قریبی تال میل پر زور دیا تاکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی کی جا سکے۔اُنہوںنے یاترا سے قبل صحت سے متعلق ہدایات، ضروری احتیاطی تدابیر اور طبی معائینے کی اہمیت اُجاگر کی تاکہ ممکنہ طبی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔وزیرصحت نے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ یاترا کے دوران ریاستی سطح کی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اُنہوں نے ضلعی اِنتظامیہ اور محکمہ صحت کی کوششوں کو سراہا اور تمام محکموں کو تال میل، تیاری اور جوابدہی کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔ دورانِ میٹنگ چیف میڈیکل آفیسر اننت ناگ نے ماہر ڈاکٹروں، پیرا میڈکس، کریٹیکل کیئر یونٹوں اور تشخیصی سہولیات کی تعیناتی سے متعلق ایک تفصیلی منصوبہ پیش کیا۔ اُنہوں نے کنٹرول روموںاور ٹریشری کیئر ہسپتالوں کے ساتھ ریفرل رابطوں کے قیام سے بھی آگاہ کیا۔بعد میں وزیر سکینہ اِیتو نے چند واڑی بیس کیمپ ہسپتال کا دورہ کیا اور اس کے کام کاج کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ہسپتال کے مختلف حصوں کا معائینہ کیا اور یاتریوں کے لئے دستیاب طبی سہولیات کا مشاہدہ کیا۔ اُنہوں نے کیمپ میں تعینات طبی عملے سے ملاقات کی اور ان کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔اُنہوں نے ایمرجنسی طبی سامان کی دستیابی، صفائی، حفظان صحت اور فضلہ تلفی کے مؤثر اِنتظامات پر زور دیا۔اِسی دوران وزیر موصوفہ نے بیتاب ویلی میں کئی سیاحوں سے ملاقات کی۔ اُنہوں نے وادی کی ثقافتی ورثہ، قدرتی خوبصورتی اور کشمیری مہمان نوازی کی روایات پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ وادی کشمیر کو ایک محفوظ اور پُرامن سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دیں اور یہاں سے خوشگوار یادیں لے کر جائیں۔سیاحوں نے وزیرصحت کے خوش اخلاق روئیے کی تعریف کی اور کشمیری ثقافت، پُرسکون دلکش مناظر اور یہاں کے لوگوں کی گرمجوشی کو سراہا۔










