smart city srinagar

سمارٹ سٹی بسوں میں ’’ چلو ایپ‘‘ کے ذریعے حاصل کردہ ٹکٹ کنڈیکٹر وں کی جانب سے قبول نہیں کیا جا تا

معاملے کو دیکھیں اور اس مسئلے کو جلد از جلد حل کر لیا جائے گا/ سمارٹ سٹی حکام

سرینگر // سرینگر شہر کے مختلف علاقوں میںچلنی والی سمارٹ سٹی بسوں میں ’’ چلو ایپ‘‘ کے ذریعے حاصل ہونے والی ای ٹکٹ قبول کرنے سے کنڈیکٹروں کے انکار پر مسافروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بعض اوقات کافی پریشانیاںلاحق ہو تی ہے ۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگر کے مختلف علاقوں میں چلنے والی سمارٹ سٹی کی الیکٹرانک بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں نے ’’چلو ایپ ‘‘کے ذریعے حاصل ہونی والی ای ٹکٹس کو قبول کرنے سے کنڈیکٹرز کے انکار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بسیں، جنہیں پہلے ہی سمارٹ بسیں کہا جاتا ہے، ’’چلو ایپ ‘‘کے ذریعے خریدے گئے ٹکٹ نہیں لے رہے ہیں، جس کے باعث بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو پریشانیاں لاحق ہو رہی ہے ۔ ایک مسافر نے اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے بتایا ’’میں نے حال ہی میں اسمارٹ سٹی بس میں سفر کیا اور ’چلو ایپ ‘کے ذریعے ٹکٹ حاصل کیا۔ تاہم، جب میں نے کنڈکٹر کو ای ٹکٹ پیش کیا تو اس نے اسے صاف صاف مسترد کر دیا اور اسے لینے سے انکار کر دیا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ کنڈیکٹر کی جانب سے ای ٹکٹ لینے سے انکار کے بعد انہیں دوبارہ سے کرایہ ادا کرنا پڑا۔ اس واقعے نے ان مسافروں میں تشویش پیدا کر دی ہے جنہوں نے ڈیجیٹل ٹکٹنگ کی سہولت کو قبول کیا ہے لیکن اب کنڈیکٹرس کی شکل میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو چلو ایپ سے تیار کردہ ای ٹکٹس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ایک اور مسافر نے بتایا کہ اس نے حال ہی میں سرینگر سے چاڈورہ تک ان میں سے ایک بس میں سفر کیا اور محسوس کیا کہ اس کے پاس نقد رقم کم ہے۔ انہوں نے کہا ’’ میں نے چلو ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ایک ای ٹکٹ بنایا اور آن لائن ادائیگی کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ مجھے شرم ہوئی کیونکہ کنڈکٹر نے میرا ٹکٹ قبول نہیں کیا جب میں نے اسے دکھایا‘‘ ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دسمبر 2023 میںسرینگر سمارٹ سٹی لمیٹڈ نے مفت ’’چلو ایپ ‘‘کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا تاکہ مسافروں کو ای بسوں کی سہولیات تک رسائی میں مدد ملے، جیسے کہ بس کے نظام الاوقات کو دیکھنے کی صلاحیت، ای بسوں کے اصل وقت کی جگہ کا پتہ لگانا، یا کنڈکٹر کو براہ راست ادائیگی کرنا ہے ۔ تاہم آج تک، یہ ای بسیں چلو ایپ کے ذریعے تیار کردہ ٹکٹوں کو قبول نہیں کرتی ہیں۔ کالج کے ایک طالب علم نے بتایا ’’ابھی تک کما نہیں رہے، محض 25 روپے ہمارے لیے بہت معنی رکھتے ہیں‘‘۔لوگوں نے اسمارٹ سٹی کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مسافر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔ادھر سرینگر اسمارٹ سٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کر لیا جائے گا۔