روسی ایندھن کی خریداری روکنے کیلئے امریکا کی بھارت کے ساتھ بات چیت

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ روس سے گیس کی خریداری پر عائد پابندی کے نفاذ کے طریقہ کار پر بھارت اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت شروع ہو گئی ہے۔مانیٹرنگ کے مطابق ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جیک سلیوان نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس معاملے پر براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے کہ قیمت کی حد مقرر کرنے کا اقدام کیسے کام کرے گا اور اس کے کیا اثرات ہوں گے اور پھر اگر ضروری ہوا تو بات چیت کو قیادت کی سطح تک بڑھایا جا سکتا ہے۔امریکی میڈیا نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ 24 فروری کو ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد سے روس سے بھارت کی خام تیل کی درآمدات میں 50 گنا اضافہ ہوا ہے۔بھارتی ریفائنریز نے مئی میں تقریباً 2 کروڑ 5 لاکھ بیرل روسی تیل خریدا۔اپریل میں صدر جو بائیڈن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بتایا تھا کہ روس سے توانائی کی درآمدات میں اضافہ کرنا بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔ واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جیک سلیوان نے پیر کے روز اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوول سے فون پر بات کی۔بیان میں وائٹ ہاؤس نےبتایا تھا کہ بات چیت کے دوران جیک سلیوان نے جمہوریت کے ساتھ مشترکہ وابستگی کی بنیاد پر مضبوط اور پائیدار امریکا-بھارت اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے صدر جو بائیڈن کے عزم کا اعادہ کیا۔ جاری بیان میں تیل کے معاملے پر مشاورت کا ذکر کیے بغیر مزید کہا گیا ہے کہ انڈو پیسفک خطے میں قریبی تعاون کو جاری رکھنے، علاقائی سلامتی کو فروغ دینے اور عالمی چیلنجز بشمول کورونا وائرس اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے پر تعاون کے لیے کوششوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔لیکن میڈرڈ، اسپین کے راستے میں امریکی صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے ایک رپورٹر نے پوچھا کہ کیا جی سیون اجلاس کے دوران تیل کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک کے وزرا کو ان کے لیڈروں کی جانب سے ان تفصیلات پر کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ قیمت کی حد مقرر کرنا کیسے کام کرے گی۔