وادی کشمیر میں غریب کنبوں کے بچے امیر گھرانوں میں کام کاج پر رکھے جانے کاانکشاف
سرینگر //دنیا بھر میں یوم اطفال منایاجارہا ہے اور اس بات کو اُجاگر کیا جارہا ہے کہ بچوں کے حقوق کی پاسداری کی جائے اور معصوموں سے کسی قسم کی مزدوری کا کام نہ لیا جائے تاہم وادی کشمیر میں بچہ مزدوری میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے خاص کر گھریلوں ملازمت کیلئے چھوٹے بچوں کو رکھا جاتا ہے ۔ جو ادارے بچہ مزدوری کا رونا رورہے ہیں ان ہی ادارے کے افسران اور ملازمین کے گھروں میں بچے گھریلو کام پر رکھے جاتے ہیں جن کے ساتھ کافی استحصال روا رکھا جارہاہے ۔ دنیا بھر میں 14نومبر کو یوم حقوق اطفال کے طور پر منایاجاتا ہے ۔ تاہم بچہ مزدورن میںروز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ خاص کر کووڈ 19کے بعد بچہ مزدوری میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ وادی میں بچہ مزدوری پر اگرچہ سرکار کی جانب سے پابندی عائد ہے اور کسی کو بھی چھوٹے بچوں سے کام کروکر ان کے تعلیمی مستقبل کو مخدوش بنانے کی اجازت نہیں ہے ۔ تاہم وادی میں بچوں سے کام کرانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر قصبہ جات میں بچوں کو مختلف کارخانوں میں کام کرایا جارہا ہے ۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری دفاتروں کے افسران ، ملازمین اور بڑے تاجروں کے گھروں میں ایسے بچے بھی گھریلوکاموں پر معمور ہے جو غریب کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین سے کہا جاتا ہے کہ ان کو تعلیم فراہم کی جائے گی تاہم ان بچوں سے گھریلو کام اور دیگر کام لئے جاتے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان سردی کے ایا م میں ان بچوں سے مزدوری بھی کروائی جاتی ہے ۔ جبکہ جن بچوں کی عمر سکول جانے کی ہے انہیں دکانوں کارخانوں و نجی دفاتر میں چائے بنانے صفائی اور دیگر چھوٹے بڑے کاموں پر لگایا گیا ہے ۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے شہر سرینگر میں مختلف کاموں میں لگے ہوئے ہیں بچوں سے مزدوری کا کام لیا جاتا ہے ۔ ریڈوں پر ان سے میوہ جات اور دیگر اشیاء فروخت کروائی جارہی ہے ۔ کئی بچے مختلف کارخانوں میں گاڑیوں کی میکنک کا کام لیا جاتا ہے ۔ اس کیلئے اگرچہ کئی غیر سرکاری تنظیمیں مورد وجود میں آئی ہیں جو بچوں سے کام کرنے والوںکے خلاف کارروائی کرتے ہیں تاہم وادی میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے مذکورہ ادارے بچوں کے ساتھ کیا جانے والا استحصال خاموشی سے دیکھ رہے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ایسے غریب اور بے سہارا بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے ۔ اس ضمن میں کئی نامور شخصیات سے جب بات کی گئی تو انہوںنے اس پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس سماج میں بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے بجائے ان سے کام لیاجاتا ہے آگے چل کر یہ سماج بڑی تباہی کادیکھ سکتا ہے کیوں کہ جس قدر سماج میں رہے رہ بچے ذہین تعلیم یافتہ اور بااخلاق ہونگے اُسی قدر سماج مختلف سماجی بُرائیوں سے پاک ہوتا ہے ۔ جن بچو ں سے بچن میں ہی کام لیا جاتا ہے وہ اکثر غلط ہاتھوں کے میں پڑجانے سے مختلف بُرائیوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں نتیجتا سماج میں بُرائیاں جڑ پکڑتی ہے ۔ ادھر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے دنیا بھر سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں بچے متاثر ہو رہے ہیں۔دنیا بھر میں 15 کروڑ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کرتے ہیں جن میں پانچ برس کی عمر تک کے بچے بھی شامل ہیں۔ان میں سے اکثر بچے طویل گھنٹوں تک گالم گلوچ اور غلامی جیسے ماحول میں کام کرتے ہیں اور انہیں کام کا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا یا اگر دیا بھی جاتا ہے تو وہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر سے متاثرہ آدھے سے زائد بچے بہت برے اور خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بچے زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں کان کنی، تعمیرات، ماہی پروری اور گھریلو کاموں میں بھی بچے کام کرتے ہیں۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی بنیادی نظریات اور حقوق کے شعبے کی سربراہ بئیٹ انڈراس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے بچے چائلڈ لیبر کی بدترین حالتوں میں پھنس گئے ہیں جنہیں ماں باپ کا قرض اتارنے کے لیے غلام بنایا گیا ہے یا ان سے عصمت فروشی کرائی جا رہی ہے جس سے انہیں ایسے جسمانی اور ذہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اکثر صورتوں میں قابل علاج نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے معیارات کے مطابق چائلڈ لیبر کی بدترین شکل وہ ہے جس سے بچوں کی جسمانی و ذہنی نشونما رک جائے۔ اس میں جبری چائلڈ لیبر بھی شامل ہے جیسے جنگوں اور تنازعات میں جھونکنے کے لیے بچوں کو جبری طور پر سپاہی بھرتی کرنا۔’’ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے پر قابو پانے کے لیے بہت کام کیا گیا ہے جس سے ایشیا اور لاطینی امریکہ میں چائلڈ لیبر میں کمی ہوئی ہے مگر افریقہ میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ چائلڈ لیبر افریقی ملکوں میں ہے۔انڈراس کا کہنا تھا کہ افریقہ میں چائلڈ لیبر کی زیادتی کی وجہ آبادی میں ہونے والی تبدیلیاں، ہجرت، موسمیاتی تبدیلیاں اور دوسری معاشی وجوہات ہیں جو دنیا بھر کے مختلف خطوں میں مختلف انداز سے اثر انداز ہوتی ہیں۔’’ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ افریقی یونین نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کے دنیا بھر کے لیے ترقی کے اہداف میں 2025 تک چائلڈ لیبر کا خاتمہ بھی شامل ہے۔










