تھائی لینڈ کے تین سابق ملاح عدالت پہنچے!

تھائی لینڈ کے تین سابق ملاح عدالت پہنچے!

تھائی لینڈ کے ایک مال بردار جہاز کے تین سابق ملاح جو آبنائے ہرمز میں مارچ میں ہونے والے حملے میں محفوظ رہے تھے، اب اپنی کمپنی کو انصاف کے لیے عدالت لے گئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی نے سخت سیکورٹی خطرات کے باوجود جہاز کو اس راستے پر بھیجا، جس سے ہر ایک کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد ان کارکنوں کو نوکری سے بھی نکال دیا گیا۔ تینوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے ان کی ذہنی حالت کافی خراب ہو گئی ہے اور وہ دوبارہ کبھی جہاز پر کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لہذا، انہوں نے ہر فرد کے لیے 1 ملین تھائی بھات (تقریباً 30,000 امریکی ڈالر) کا معاوضہ طلب کیا ہے۔
یہ پورا معاملہ تھائی کارگو جہاز سے متعلق ہے ۔ 11 مارچ کو عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب جہاز پر اچانک حملہ ہوا۔ تین افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ عملے کے باقی 20 افراد کو بچا لیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے نے مل کر ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے بنکاک کی سینٹرل لیبر کورٹ میں جہاز کے مالک پریشئس شپنگ کمپنی، دو دیگر منسلک کمپنیوں اور جہاز کے کپتان کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
ملاحوں کے وکیل کا موقف ہے کہ سکیورٹی خطرات کے باوجود کمپنی نے جہاز کو ہرمز سے گزرنے دیا جس سے عملے کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ حملے کے بعد جہاز کو ناقابل استعمال بنا دیا گیا تھا اور تینوں کو ان کے نو ماہ کا معاہدہ مکمل ہونے سے پہلے ہی برخاست کر دیا گیا تھا۔ کمپنی نے انہیں صرف دو ماہ کی تنخواہ کے برابر معاوضہ فراہم کیا۔
وکیل کے مطابق ابتدائی طور پر کمپنی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کمپنی نے مکمل ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ تاہم پریشئس شپنگ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔