سرینگر//حالیہ شہری ہلاکتوں کے بعد وادی کشمیر میںسی آر پی ایف کی مزید5کمپنیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے اس دوران پی ڈی پی کی سربراہ و سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بتایا کشمیر میں اضافی فوجی جماؤ سے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا جا رہا ہے۔ وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے پے در پے واقعات کے بعد جموںو کشمیر میں فورسز (سی آر پی ایف ) کی مزید5کمپنیوں کو وادی لایا گیا ہے جہاں انہیں سری نگر اور دیگر کئی حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا ۔تاہم ذرائع کے مطابق ان پانچ کمنپیوں میں شامل زیادہ تر اہلکاروں کی تعداد کو سری نگر میں تعینات کیا جائے گا ۔وادی میں ماہ اکتوبر میں قریب11شہری ہلاکتوں کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی تھی اس کے بعد یہاں پانچ کمپنیوں کو یہاں طلب کیا گیا تھا جس کے بعد گزشتہ دنوں کی ہلاکتوں کے بعد انتظامیہ نے مزید پانش کمپنیاں یہاں تعینات کی جا رہی ہے ۔اس دوران گزشتہ دنوں کی ہلاکتوں کے بعد شہر سرینگر میں سیکورٹی کو متحرک کیا گیا ہے ۔جس کے نتیجے میں یہاں جگہ جگہ پر راہ گیروں اور مسافروں کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ دن اور رات کے گشت میں بھی تیزی لائی گئی ہے ۔جبکہ لوگوں کے مطابق یہاں 90کی دہائیوں کی یادیں تازہ ہو رہی ہے جہاں مسافروں کو گاڑیوں سے اتارا جا رہا ہے اور ان کے بیگ اور باقی تلاشیاں لی جا رہی ہے ۔لوگوں نے بتایا اگر چہ یہ سلسلے پہلے ختم ہوا تھا تاہم گزشتہ دنوں بہوی کدل میں شہری ہلاکت کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ادھرپی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا ماننا ہے کہ کشمیر میں اضافی فوجی جماؤ سے یہاں کے لوگوں کا جینا مزید دو بھر کر دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے بہانے پر یہاں کے لوگوں کا دم گھٹایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے بحران کے خاتمے کے لئے فوجی کی بجائے سیاسی حل کی ضرورت ہے۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ انہوں نے یہ ٹویٹ مرکزی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر میں سی آر پی ایف کی 30 اضافی کمپنیوں کی تعینانی کے فیصلے کے رد عمل میں کیا۔محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ’جموں وکشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کے بعد بھی کشمیر میں اضافی فوجی دستے لائے جا رہے ہیں‘۔نہوں نے کہا: ’یہاں لوگوں کو جو تھوڑی بہت سانس لینے کی جگہ میسر تھی اس کو بھی تنگ کیا جا رہا ہے اور سیکورٹی کے بہانے پر اس کو لوگوں سے چھینا جا رہا ہے‘۔ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ’جموں وکشمیر کے بحران کے خاتمے کے لئے فوجی کی بجائے سیاسی حل کی ضرورت ہے‘۔قابل ذکر ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر وزارت امور داخلہ نے سی آر پی ایف کی 30 اضافی کمپنیاں جموں وکشمیر میں تعینات کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان میں سے گذشتہ ایک ماہ کے دوران 25 کمپنیوں کو یہاں تعینات کیا گیا ہے جبکہ مزید پانچ کمپنیوں کو ایک ہفتے میں یہاں تعینات کیا جائے گا۔










