ای ڈی نے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، 19 مقامات پر چھاپے
سرینگر/وی او آئی//انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)نے الزام لگایا ہے کہ فرید آباد کی ال-فلاح یونیورسٹی اور اس کے کنٹرولنگ ٹرسٹ نے جعلی منظوری اور شناخت کے دعووں کی بنیاد پر طلبہ اور والدین کو دھوکہ دے کر کم از کم 415.10 کروڑ روپے کی غیر قانونی آمدنی حاصل کی۔ ای ڈی نے یہ دعویٰ عدالت میں دائر ریمانڈ درخواست میں کیا، جس کے بعد منگل کی شام یونیورسٹی گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) 2002 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل ایجنسی نے دہلی میں یونیورسٹی اور اس سے وابستہ افراد کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے اور متعدد دستاویزات و شواہد ضبط کیے۔ ای ڈی کے مطابق، مالی سال 2014-15 سے 2024-25 تک کے انکم ٹیکس گوشواروں کے تجزیے سے پتہ چلا کہ یونیورسٹی نے ابتدائی برسوں میں آمدنی کو “رضاکارانہ عطیات” کے طور پر ظاہر کیا، جبکہ بعد کے برسوں میں اسے “تعلیمی محصولات” کے طور پر دکھایا گیا۔ ان برسوں میں جب ادارے کے پاس درست منظوری موجود نہیں تھی، آمدنی کا مجموعی حجم 415.10 کروڑ روپے رہا۔ ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ صدیقی یونیورسٹی کے پورے تعلیمی نظام پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے اور صرف ایک حصہ ہی اب تک غیر قانونی آمدنی کے طور پر شناخت کیا جا سکا ہے۔ ای ڈی نے خدشہ ظاہر کیا کہ صدیقی اب بھی ٹرسٹ پر عملی اثر رکھتے ہیں اور اثاثوں کو منتقل یا تبدیل کر کے تحقیقات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جن میں یونیورسٹی کا دھوج کیمپس بھی شامل ہے۔ ای ڈی نے مزید کہا کہ صدیقی کی تحویل ضروری ہے تاکہ فیس ڈھانچے، عطیات، فنڈز کی منتقلی اور مبینہ بے نامی اثاثوں کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ ٹرسٹیز اور ڈائریکٹرز کے طور پر درج دیگر افراد کا کردار کیا تھا، جبکہ شواہد صدیقی کو “کنٹرولنگ مائنڈ” قرار دیتے ہیں۔ یہ مقدمہ دہلی پولیس کرائم برانچ کی جانب سے درج دو ایف آئی آرز پر مبنی ہے، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ ال-فلاح یونیورسٹی نے NAAC منظوری اور UGC شناخت کے جعلی دعوے کر کے طلبہ، والدین اور عوام کو دھوکہ دیا۔ ای ڈی نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران 48 لاکھ روپے نقدی، متعدد ڈیجیٹل ڈیوائسز اور اہم دستاویزات برآمد ہوئے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹرسٹ نے کروڑوں روپے کی رقم خاندان کے زیرِ ملکیت اداروں میں منتقل کی۔یہ انکشاف ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔










